صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 8
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / كهيعص - ہے جس کا اعلان ہمارے زمانے کے امام ربانی نے موجودہ واقعات کے رونما ہونے سے بہت پہلے کھلے الفاظ میں نہ ایک دفعہ بلکہ بار بار فرمایا: اور فرمایا کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۶۵) ایک شدید زلزلہ کا آنا ضروری ہے لیکن راستباز اس سے امن میں ہیں۔سور استنباز بنو! اور تقویٰ اختیار کرو! تا بچ جاؤ۔آج خدا سے ڈرو تا اس دن کے ڈر سے امن میں رہو۔ضرور ہے کہ آسمان کچھ دکھاوے اور زمین کچھ ظاہر کرے لیکن خدا سے ڈرنے والے بچائے جائیں گے۔“ ”خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ کئی حوادث ظاہر ہوں گے اور کئی آفتیں زمین پر اتریں گی۔کچھ تو ان میں سے میری زندگی میں ظہور میں آجائیں گی اور کچھ میرے بعد ظہور میں آئیں گی اور وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا۔کچھ میرے 66 ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد۔“ (رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۴،۳۰۳) ہلاکت آفرینی کے جو تباہ کن سامان عیسائی قوموں کے ہاتھوں سے ہی تیار ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ان کی ہولناکی اور ہلاکت آفرینی کا تصور ناممکن ہے۔اس میں آیت تَكَادُ السَّموتُ يَتَفَكَّرُنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَنَّا (مریم:۹۱) کی پیشگوئی عنقریب پوری ہونے والی ہے اور جو اس وقت تک پوری ہوئی ہے وہ صرف بطور ایک لقمہ کے ہے۔غَيَّا خُسْرَانَا : غَيْ کے معنی گھاٹے کے ہیں۔علامہ طبری نے یہ معنی بسند علی بن ابی طلحہ حضرت ابنِ عباس سے نقل کیے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۳) حضرت ابن مسعودؓ نے لفظ غنا سے متعلق کہا ہے کہ یہ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت ہی گہری ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۴۳) امام بخاری نے یہ روایت قبول نہیں کی اور حضرت ابن عباس والی روایت جس میں غمی کے معنی خُسران بتائے گئے ہیں قبول کی ہے۔فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمُ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيَّاه (مریم:۲۰) یعنی پھر اُن کے بعد ایک ایسی نسل جانشین ہوئی جنہوں نے نماز ضائع کر دی اور جو نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ گئے۔پس وہ عنقریب اپنی گمراہی کا بدلہ بہت بڑے گھاٹے کی صورت میں پائیں گے۔اس سے پہلے منعم علیہ گروہ کا ذکر ہے فرماتا ہے: أُولَبِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ لرزتے ہوئے گر پڑیں۔“ نه