صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 169
صحیح البخاری جلد ۱۶۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الروم يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَحِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ اسی طرح فطرت پر پیدا ہوتا ہے جس طرح چوپایا الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّوْنَ پورے کا پورا صحیح سالم بنتا ہے کہیں تم اُن میں کوئی فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُولُ فِطْرَتَ اللهِ کان کٹا بھی دیکھتے ہو ؟ یہ کہہ کر (حضرت ابو ہریرہ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ یہ آیت پڑھا کرتے تھے: فِطْرَتَ الله التی یعنی لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۔ یہ وہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو الروم : ۳۱) پیدا کیا ۔ اللہ کی اس پیدائش میں تبدیلی نہ کی جائے یہی وہ دین ہے جو صحیح اور پائیدار ہے۔ أطرافه: ۱۳۵۸ ، ۱۳۵۹، ۱۳۸۴، ۱۳۸۵، 6598، 6599- تشریح : لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ الله : امام طبری نے آیت لا تبديل لخلق اللہ کا مذکورہ بالا مفہوم یعنی فطرت صحیحہ اور اسلام بسند ابراہیم نخعی نقل کیا ہے۔ مجاہد ، عکرمہ ، قتادہ، سعید بن جبیر رحمہم اللہ جیسے تابعین کرام نے بھی یہی مفہوم بتایا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۵۱) اس سے یہ آیت مراد ہے: فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ( الروم : (۳۱) پس تو اپنی ساری توجہ دین کے لئے مخصوص کر دے، ایسی صورت میں کہ تجھ میں کوئی کبھی نہ ہو۔ اللہ کی ( پیدا کی ہوئی) فطرت کو اختیار کر، وہی فطرت جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی پیدائش میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے یہی قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ عنوان باب میں خُلُقُ الْأَوَّلِينَ سے سورۃ الشعراء کی اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے : قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوْ عَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَعِظِيْنَ ) إِنْ هَذَا إِلَّا خُلْقُ الْأَوَّلِينَ (الشعراء : ۱۳۷، ۱۳۸) انہوں نے کہا: تیر ا وعظ کرنا یا نہ کرنا ہمارے لئے برابر ہے ( جو باتیں ہم کرتے ہیں) پہلے ) کرتے ہیں) پہلے لوگوں کے بھی یہی طور طریقے تھے ۔ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ ) (الشعراء: ۱۳۹) (اگر وہ سزا نہیں دئے گئے تو ہمیں بھی سزا نہیں دی جائے گی۔ سورۃ الروم کی مذکورہ بالا آیت کے تعلق میں دین فطرت اور سائنس کے درمیان جو فرق ہے اس کی طرف توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کی حیرت انگیز ترقی مسلم لیکن سائنس ہے کیا؟ اس کا موضوع کا ئنات عالم کا غور سے مطالعہ کرنا ہے۔ ایک شے کا دوسری شے سے رابطہ علت معلول معلوم کرنا ہے۔ عام آدمی آسمان سے بارش برس بارش برستی دیکھتا ہے ا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ پانی خود بخود گر رہا ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے اسباب کا معا کر کے معلوم کیا ہے کہ سمندر وغیرہ سے پانی بخارات کی شکل میں ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوا کے ذریعے سے اُوپر کے طبقے میں اٹھایا جاتا ہے۔ پانی کے باریک ذرات جو غبار کی صورت میں نظر آتے ہیں عربی زبان میں وذق کہلاتے ہیں کا مطالعہ