صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 168
صحيح البخاری جلد ١٦٨ ۶۵ - کتاب التفسير الروم إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقَ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجالِ : آدم کی پیدائش سے تا قیامت کوئی فتنہ دجال سے بڑھ کر نہیں ہو گا۔یہ روایت حضرت عمران بن حصین سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ۔کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا۔امام مسلم نے یہ روایت صحیح سند سے نقل کی ہے۔(صحيح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب فى بقيّة من أحاديث الدجال اور مشكاة المصابیح میں کتاب الفتن، بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ سے دیکھی جاسکتی ہے۔پیشگوئیوں کے تعلق میں حضرت ابن مسعودؓ کا مذکورہ بالا مشورہ قابل قدر ہے مَنْ عَلِمَ فَلْيَقُلْ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنَ العِلْمِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ: لَا أَعْلَمُ جے علم ہو تو وہ کہے اور جسے علم نہ ہو تو وہ کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ یہ امر بھی علم ہی میں سے ہے کہ جس بات کا علم نہیں رکھتا اس کے متعلق کہے کہ میں نہیں جانتا۔تکلف سے تاویل کرنا درست نہیں۔امام بخاری نے اپنے علم کے مطابق مفردات کے حوالہ جات سے سورتوں کا موضوع متعین کیا ہے اور اس میں بڑی وسعت معلوم ہوتی ہے۔بَاب : لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ (الروم : ۳۱) اللہ کی پیدائش میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی لِدِينِ اللهِ خُلُقُ الْأَوَّلِينَ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے (الشعراء: ۱۳۸) دِيْنُ الْأَوَّلِيْنَ وَالْفِطْرَةُ دین کو نہ تبدیل کرنا۔خُلُقُ الْأَوَّلِينَ سے بھی یہی مراد ہے کہ پہلوں کا دین ( بھی یہی تھا) اور فطرت الْإِسْلَامُ۔سے اسلام مراد ہے۔٤٧٧٥ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا :۴۷۷۵ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔یونس ( بن یزید ) نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے انہوں نے کہا: ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُوْ سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ بھی ایسا نہیں جو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَّوْلُودٍ إِلَّا يُوْلَدُ فطرت پر پیدا نہ ہو تا ہو مگر اس کے ماں باپ ہی عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوّدَانِهِ أَوْ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔وہ