صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 167
صحيح البخاری جلد 172 ۶۵ - كتاب التفسير / الروم طرح ہے۔جمہور کی قراءت ضعف ضاد کی پیش سے ہے۔عاصم اور حمزہ دونوں نے ضعف پڑھا ہے ضاد کی زبر سے۔خلیل نحوی نے ضعف اور ضعف میں یہ فرق بتایا ہے کہ اول الذکر کا تعلق جسمانی کمزوری سے ہے اور ضعف کا عقل کی کمزوری سے ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۵۰) فرماتا ہے: اللهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ (الروم : ۵۵) اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت سے پیدا کیا۔پھر کمزوری کے بعد تمہیں قوت بخشی۔پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپے کی طرف لوٹایا۔جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ بہت ہی بڑے علم والا اور قدرت والا ہے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ السُّواى: مجاہد نے کہا: لفظ السواى إِساءَة سے ہے یعنی برائی کا بدلہ۔جَزَاءُ الْمُسِنِيْنَ بدکاروں کا بدلہ۔فرماتا ہے: ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ آسَاءُوا السُّورَى أَن كَذَبُوا بِأَيْتِ اللَّهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِءُونَ (الروم : ۱۱) پھر جنہوں نے بُرے کام کئے ان کا انجام برا ہوا اِس لئے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ اُن کے متعلق ہنسی کیا کرتے تھے۔روایت نمبر ۴۷۷۴ میں بعض پیشگوئیوں کا ذکر ہے جو حضرت ابن مسعودؓ کے نزدیک پوری ہوگئیں ہیں: اللہ خان مراد شدید قحط کی سزا اور الْبَطْشَة الکبری سے غزوہ بدر جس میں اکثر ان کے سردار ہلاک ہوئے اور لزاما سے بھی انہوں نے یہی جنگ مراد لی ہے۔اور غُلِبَتِ الرُّوم کی پیشگوئی۔بخاری، کتاب التفسير، سورة الفرقان، باب فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا میں لِزَامًا کی شرح گزر چکی ہے۔اور دخان کے بارے میں سورۃ الدخان کی تفسیر میں ذکر آئے گا۔اس سورۃ میں البَطْشَةَ الكبری یعنی بہت بڑی گرفت کا ذکر ہے۔مذکورہ بالا روایت کی صحت میں کوئی شک و شبہ نہیں، صحیح مستند روایت ہے۔لیکن اس تعلق میں یہ امر قابل ملاحظہ ہے کہ جن تین واقعات کا ذکر کیا گیا ہے ان کی نسبت بصورت پیشگوئی الگ الگ سورتوں میں ذکر موجود ہے۔مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسے عذاب قحط سے مبتلا کئے جانے کا ذکر سورۃ یوسف کی آیات ۴۴ تا ۴۹ میں ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام سے متعلق واقعات ذلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ (يوسف : ۱۰۳) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص پیشگوئیاں بتائی گئی ہیں اور موعودہ عذاب کو غاشیۃ اور السَّاعَةُ سے تعبیر کیا گیا ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مضطر ہو کر اس عذاب کے بارہ میں دعا کی جس کا ذکر اسی روایت میں موجود ہے۔غزوہ بدر میں جو سزا انہیں ملی اس کا مفصل ذکر سورۃ الانفال میں ہے۔بطور نمونہ دیکھئے آیات ۱۱ تا ۱۴۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے قرآن مجید میں تکرار نہیں اور پھر جب تفصیل موجود ہو تو اعادہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔صحابہ کرام کے علم میں چند ایک واقعات جو تھے انہی کی طرف ان کا ذہن بار بار عود کرتا اور اس میں وہ معذور تھے۔لیکن ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت گزشتہ زمانہ ہی سے محدود نہیں ہے بلکہ آئندہ زمانوں پر بھی ممتد ہے۔ان میں سے ایک وہ خوفناک زمانہ بھی ہے جس کی نسبت آپ نے فرمایا: مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ