صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 166
MY صحیح البخاری جلد ۲۵ - كتاب التفسير / الروم نے انکار کیا اس کے انکار کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو عمل صالح بجالائے تو وہ اپنی جانوں کے لئے تیاری کرتے اور سنوارتے ہیں۔الودق بقول فریابی "بارش کے معنوں میں ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۵۰) فرماتا ہے: اللهُ الَّذِى يُرْسِلُ الرِّيحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُه في السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلةَ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلْلِهِ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِةَ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الروم : ۴۹) اللہ وہ ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کی شکل میں بخارات اٹھاتی ہیں اور وہ اسے آسمان میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے اور اس بادل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔تو پھر دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان بارش کے قطرے ٹپکتے ہیں۔سو جب وہ اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے بارش پہنچادیتا ہے تو اچانک وہ خوش ہو جاتے ہیں۔هَلْ تَكُم مِّنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ کیا تم یہ گوارا کرتے ہو کہ اپنی مملوکہ اشیاء میں دوسروں کو مالک بنا دو تو پھر کس طرح باری تعالیٰ کے شریک اس کی مملکت میں تجویز کرتے ہو۔حضرت ابن عباس کی یہ شرح بسند ابن جریج، عطا بن ابی رباح سے مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۵۰) فرماتا ہے : ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ هَلْ تَكُمْ مِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَكُمْ فَانْتُمْ فِيهِ سَوَاءِ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ كَذلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ) ( الروم : ۲۹) تمہارے لئے ایک مثال تمہارے اپنے نفسوں سے ہی بیان کی ہے۔کیا تم گوارا کرتے ہو کہ تمہارے غلام تمہارے ساتھ اس رزق میں شریک ہوں جو ہم نے تمہیں دیا ہے، ایسے طور پر کہ وہ اور تم برابر ہو جاؤ۔تم ان سے اس طرح خوف کھاؤ جس طرح اپنے آپ یعنی اپنے برابر کے شریکوں سے۔اسی طرح ہم عظمند لوگوں کے لئے آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔اس مثال میں بتایا گیا ہے کہ جب تمہارا یہ حال ہے کہ تم اپنے مالکانہ حقوق اپنے غلاموں کو سپر د کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر کس طرح تجویز کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ اپنی بادشاہت میں اپنے مالکانہ حقوق غیروں کو سپر د کر دے اور وہ اس کے سوا دوسروں کے لئے معبود ٹھہریں اور وہ اللہ تعالٰی کی طرح اپنی مرضی سے جس طرح چاہیں تصرف کریں۔يَصَّدَّعُونَ کے معنی ہیں پھٹ جاتے ہیں، آپس میں تفرقہ کرتے ہیں۔فَاقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيْمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمُ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ يَوْمَن يُضَدَّعُونَ ) (الروم : ۴۴) اس لئے تو اپنی پوری توجہ اس دین کی طرف پھیر جو راست اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے قبل اس کے کہ وہ روز آئے جو اللہ کی طرف سے اٹل ہے اس دن وہ پھٹ جائیں گے (مومن اور کافر الگ الگ ہو جائیں گے۔) فاصدغ کے معنی ہیں کھول کر بیان کر۔اس سے سورۃ الحجر کی آیت کا حوالہ دے کر لفظ يُضَدَّعُونَ کا مفہوم بیان کیا ہے۔یعنی ایسے طور سے بیان کر کہ حق و باطل میں نکھار ہو جاۓ۔فَأَصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ) (الحجر: ۹۵) اس لئے جو تجھے حکم دیا جاتا ہے وہ کھول کر بیان کر اور مشرکوں سے اعراض کر۔وَقَالَ غَيْرُهُ: ضُعْفٌ وَضَعْفٌ لُغَتَانِ : دونوں ہی درست ہیں۔غَيْرُهُ سے مراد حضرت ابن عباس کے علاوہ ہیں۔یعنی عربی زبان میں دونوں تلفظ کمزوری کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔اکثر کے نزدیک قراءت دونوں