صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 165
صحيح البخاری جلد ۱۶۵ -۲۵ کتاب التفسير / الروم الكبرى ( الدخان: ۱۷) يَوْمَ بَدْرٍ پڑھی: فَارْتَقِبُ يَوْمَ۔یعنی اس روز کا انتظار کر وَ لِزَامًا (الفرقان) : (۷۸) يَوْمَ بَدْرٍ جب آسمان ایک کھلا کھلا دھواں لائے گا۔ہم المه غُلِبَتِ الرُّومُ إِلَى سَيَغْلِبُونَ عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگر تم پھر (الروم : ٢-٤) وَالرُّومُ قَدْ مَضَى۔وہی ( کر تو تیں ) کرنے لگ جاؤ گے۔تو کیا آخرت کا عذاب جب آئے گا تو اُن سے ہٹا دیا جائے گا۔اس کے بعد قریش پھر اسی طرح انکار کرنے لگے اور یہی وہ (انکار ) ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَةَ الكبرى یعنی جس روز ہم بہت بڑی گرفت میں پکڑیں گے۔اس سے مراد غزوہ بدر ہے اور لزاما سے بھی یہی غزوہ بدر مراد ہے۔الم 8 غُلِبَتِ الرُّوم لے اور یہ روم کا واقعہ بھی گزر چکا ہے۔٤٤٨٢٢ CEA-9 ٤٤٨٢٠ ،٤٨٢١ ٠٤٧٦٧ ،٤٦٩٣ ،۱۰۲۰ -٤٨٢٣، ٤٨٢٤، ٤٨٢٥ أطرافه: ۱۰۰۷، تشريح : فَلَا يَرْبُوا سے یہ آیت مراد ہے وَمَا أَتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوا فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوا عِندَ اللهِ وَمَا أَتَيْتُمْ مِنْ زَكوة تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ) (الروم : ٤٠) اور جو 139138 مال تم سود حاصل کرنے کے لئے دو گے تاکہ وہ لوگوں کے مالوں کے ذریعے سے بڑھے تو وہ مال اللہ کے حضور نہیں بڑھے گا اور جو تم زکوۃ اس لئے دو گے کہ اللہ کی رضا مندی اس کے ذریعے سے چاہتے ہو تو ایسے لوگ اپنے مالوں کو بڑھا رہے ہوں گے۔قَالَ مُجَاهِدٌ يُحْبَرُونَ: مجاہد نے کہا: ناز و نعمت اور آسائش میں ہوں گے۔فرماتا ہے: فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ (الروم : ۱۶) سو وہ جو ایمان لائے ہیں اور موقع و محل کے مطابق اچھے عمل کئے ہیں وہ عالیشان باغ میں خوش و خرم اور ہر طرح کی آسائش میں ہوں گے۔يَهَدُون یعنی سنوارتے ہیں۔یہ اس آیت میں بیان ہوا ہے : مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كَفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِانْفُسِهِمْ يَمْهُدُونَ (الروم : ۴۵) جس ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "أنا اللہ اعلم۔میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔اہل روم 66 مغلوب کئے گئے قریب کی زمین میں۔اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد پھر ضر ور غالب آجائیں گے۔“