صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 164
صحيح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / الروم وَأَبْصَارِهِمْ يَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزَّكَامِ بے کار کر دے گا اور اس سے مومن کو بھی زکام فَفَزِعْنَا۔فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَكَانَ ہو جائے گا۔ہم یہ سن کر گھبر اگئے اور میں حضرت مُتَّكِنَّا فَغَضِبَ فَجَلَسَ فَقَالَ مَنْ عَلِمَ ابن مسعودؓ کے پاس آیا اور وہ تکیہ لگائے ہوئے فَلْيَقُلْ وَمَنْ لَّمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ تھے یہ سن کر انہیں غصہ آیا اور بیٹھ گئے اور کہنے فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ لگے۔جس کو علم ہو ، چاہیے کہ وہ بیان کرے اور لَا أَعْلَمُ فَإِنَّ اللهَ قَالَ لِنَبِيِّهِ قُلْ مَا جسے علم نہ ہو کہنا چاہیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے اور استلكُم عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَ مَا أَنَا مِنَ یہ بھی علم کی علامت ہے کہ جو بات نہیں جانتا تكَلِّفِينَ (ص: ۸۷) وَإِنَّ قُرَيْشًا اس کی نسبت کہے کہ میں نہیں جانتا کیونکہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے فرمایا ہے: کہہ بناوٹ کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔اور ہوا أَبْطَوْا عَنِ الْإِسْلَامِ فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کہ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور میں اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعِ كَسَبْعِ یہ تھا کہ قریش نے اسلام قبول کرنے میں دیر کی يُوْسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتَّى هَلَكُوْا تو نبی صلی الله ولم نے ان کے خلاف دعا کی۔عرض کیا: فِيهَا وَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ وَيَرَى اے اللہ! ان کو مغلوب کرنے کے لئے میری مدد الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَجَاءَهُ أَبُوسُفْيَانَ فَقَالَ يَا ایسے سات سالوں سے فرما جو یوسف کے سات سالوں جیسے ہوں۔چنانچہ قحط نے انہیں ایسا پکڑا مُحَمَّدُ جِئْتَ تَأْمُرُنَا بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ کہ وہ اس میں ہلاک ہوئے اور انہوں نے اس میں قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوْا فَادْعُ اللهَ فَقَرَأَ مردار اور ہڈیاں کھائیں اور آسمان اور زمین کے فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأتي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ درمیان کی فضا آدمی کو دھوئیں کی طرح دکھائی إِلَى قَوْلِهِ عَابِدُونَ (الدخان: ١١-١٦) دیتی تھی۔تب ابوسفیان آپ کے پاس آیا اور اس أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمْ عَذَابُ الْآخِرَةِ إِذَا نے کہا: محمد ! آپ آئے تھے صلہ رحمی کا ہمیں حکم جَاءَ ثُمَّ عَادُوْا إِلَى كُفْرِهِمْ فَذَلِكَ دینے اور حالت یہ ہے کہ آپ کی قوم ہلاک ہو گئی قَوْلُهُ تَعَالَى يَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَة ہے۔پس اللہ سے دعا کریں۔تو آپ نے یہ آیت