صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 162
صحیح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / العنكبوت سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ وہ ”ہم مومن ہیں کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا۔حالانکہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں انہیں ہم نے خوب آزمایا۔سو اللہ ان لوگوں کو ظاہر کر دے گا جو اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہیں اور انہیں بھی جو جھوٹے ہیں۔۔۔اور ضرور ضرور اللہ مومنوں کو منافقوں سے نکھیر دے گا۔یعنی کڑی آزمائش سے کچے دھاگے ٹوٹ جائیں گے اور پختہ دھاگوں کی پختگی کا علم ہو جائے گا۔ابتلاؤں سے یہی مقصود ہے کہ کمزور ایمان اور پختہ ایمان لوگ ایک دوسرے سے نکھرتے چلے جائیں اور ایک مضبوط جماعت سے مشیت الہی کے نفاذ میں کام لیا جائے اور یہ مقصد مشتبہ اور خلا ملا کی حالت میں نہیں ہو سکتا بلکہ بعض دفعہ منافق طبع اور کمزور ایمان لوگ شامل ہو کر نازک صورت حال پیدا کر دیتے ہیں جیسا کہ غزوہ احد میں ہوا۔اثْقَالًا مَعَ اثْقَالِهِمْ : اس سے یہ آیت مراد ہے: وَلَيَحْدُنَ اثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا فَعَ الْقَالِهِمْ وَلَيُسْتَدُنَ يَوْمَ الْقِيْمَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ( العنكبوت (۱۴) اور ضرور وہ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے علاوہ اور لوگوں کے بوجھ بھی (جنہیں انہوں نے گمراہ کیا) اور قیامت کے روز ضرور انہیں پوچھا جائے گا اس افتراء کے بارے میں جو وہ کرتے ہیں۔اس سے ماقبل کی آیت ۱۳ میں کفار کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وَ لنَحْمِلُ خَطیكُم یعنی ہماری اتباع کرو ہم تمہاری خطائیں اٹھائیں گے ، جیسا کہ کفارہ کے بارہ میں عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح ان کے گناہوں کی خاطر صلیب پر چڑھایا گیا اور اب وہ آزاد ہیں۔گو موجودہ زمانے میں اپنے اس عقیدے میں خدا سے تبدیلی کی ہے۔پیر و فقیر اپنے مریدوں کو اسی قسم کا دھوکہ دیتے ہیں جس کی ان آیات میں نفی کی گئی ہے۔سورۃ النحل کی آیت ۲۶ میں بھی یہی مضمون ہے اور اس میں انتقال کی جگہ اوزار آیا ہے جو وزر کی جمع ہے یعنی گناہوں کا بوجھ۔اس آیت کے آخر میں فرماتا ہے: اَلا سَاءَ مَا يَزِرُون خبر دار غور سے سنو جو بوجھ وہ اٹھار ہے ہیں بہت ہی بُرا ہے۔AAA