صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 7
صحیح البخاری جلد 4 ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص رقص و سرود سے جس طرح اخلاق و عقائد بگڑے ہیں وہ محتاج بیان نہیں۔ علاوہ ازیں ان کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف جو جنگ کی آگ بھڑکائی جارہی۔ جارہی ہے وہ بھی کسی سے مخفی مخفی نہیں۔ الفاظ تودُّهُمْ اَنَّا سے ہر قسم کی انگی انگیخت اور اشتعال مراد ہے۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِذَا عِوَجًا: اور مجاہد نے کہا : ادا کے معنی ہیں ٹیڑھا۔ اور لغت میں الاد کے معنی ہیں الْأَمْرُ الْفَظِيعُ (اقرب الموارد - إد) یعنی نہایت دہشتناک بات۔ اس کی جمع اداد اور ادد ہے۔ لغت کے متعارف معنی ہی سیاق کلام کے مناسب ہیں۔ خود امام بخاری نے بھی چند سطروں کے بعد ادا کے معنی قَوْلًا عَظِيمًا کئے ہیں یعنی بہت بڑا بول۔ فرماتا ہے : لَا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُهُ شَيْئًا إِذَا (مریم: ۸۸ تا ۹۰) اس دن وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھیں گے سوائے اس شخص کے جس نے رحمن کے پاس سے عہد لے لیا ہو اور اُنہوں نے کہا کہ رحمن نے ایک بیٹا بنا لیا ہے۔ یقینا تم ایک بہت ہی بڑی بات کہتے ہو اور وہ اتنی سخت اور گراں ہے کہ تَكَادُ السَّمَاتُ يَتَفَكَّرُنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا أَنْ دَعَوُا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا (مریم: ۹۱ تا ۹۴) یعنی اس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں۔ اس لئے کہ انہوں نے رحمٰن کا ایک بیٹا پکارا ہے اور رحمن کی شان کے شایاں نہیں کہ وہ کوئی بیٹا بنائے آسمانوں اور زمین میں ہر شے رحمن کے حضور غلام ہو کر آئے گی۔ بود قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وِرُدَّاعِطَاشًا : حضرت ابنِ عباس نے کہا وردا کے معنی ہیں پیاسے ۔ فرماتا ہے: وَ نَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وَرُدَّان (مریم: (۸۷) یعنی اور ہم مجرموں کو ہانک کر جہنم میں پہنچائیں گے جس میں وہ پیاسے ہوں گے۔ لفظ وردا کی شرح کتاب بدء الخلق باب صِفَةُ النَّارِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ میں بھی گزر چکی ہے۔ آنانا کے معنی ہیں مال و دولت۔ اس تعلق میں آیت مع ترجمہ ابھی گزر چکی ہے۔ جہاں اس کے معنی ساز و سامان بتائے جاچکے ہیں۔ آیت اَحْسَنُ آثَاثًا وَ رِعْيًا (مریم: کے ۷۵) ایک دوسرے معنی قادہ سے أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَحْسَنُ صورا مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۳) یعنی عیسائی لوگ مال و دولت میں دوسروں سے بڑھ کر ہیں اور اپنی ظاہری صورت و شکل اور لباس و وضع قطع میں بھی دوسروں سے زیادہ جاذب نظر ہیں۔ ابور زین سے رعایا کے معنی بیا با مروی ہیں اور ثعلبی نے لفظ رویا کی قراءت زییا بھی بیان کی ہے جس کے معنی ہیں هيئة ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۴۲) (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۵۰) اس لئے دونوں روایتوں کے پیش نظر آیت کے معنی شکل و شباہت، وضع قطع اور لباس کی خوبصورتی کئے گئے ہیں اور واقعات اس شرح کی تصدیق کرتے ہیں۔ ركز ا صَوْتًا: اس سے مراد ہے آواز ، بھنک اور آہٹ۔ فرماتا ہے : وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمُ مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا (مریم: ۹۹) یعنی اور ان سے پہلے کتنی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا، کیا تو اُن میں سے کسی کی آہٹ بھی محسوس کرتا ہے یا اُن کی بھنک سنتا ہے۔ عیسائی قوم کی ہلاکت سے متعلق یہ واضح انذار