صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 7
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / كهيعص - رقص و سرود سے جس طرح اخلاق و عقائد بگڑے ہیں وہ محتاج بیان نہیں۔علاوہ ازیں ان کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف جو جنگ کی آگ بھڑکائی جارہی ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔الفاظ تو زُهُمُ انَّا سے ہر قسم کی انگیخت اور اشتعال مراد ہے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِذَا عِوَجًا: اور مجاہد نے کہا: اڈا کے معنی ہیں ٹیڑھا۔اور لغت میں الاڈ کے معنی ہیں الأمرُ الْفَظِيعُ (اقرب الموارد - إ3) یعنی نہایت دہشتناک بات۔اس کی جمع اداڈ اور ادڈ ہے۔لغت کے متعارف معنی ہی سیاق کلام کے مناسب ہیں۔خود امام بخاری نے بھی چند سطروں کے بعد اڈا کے معنی قَوْلًا عَظِيمًا گئے ہیں یعنی بہت بڑا بول۔فرماتا ہے: لَا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا لَقَدْ جنتُم شَيْئًا إِذَان (مریم: ۸۸ تا ۹۰) اس دن وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھیں گے سوائے اس شخص کے جس نے رحمن کے پاس سے عہد لے لیا ہو اور اُنہوں نے کہا کہ رحمن نے ایک بیٹا بنا لیا ہے۔یقینا تم ایک بہت ہی بڑی بات کہتے ہو اور وہ اتنی سخت اور گراں ہے کہ تَكَادُ السَّموتُ يَنْفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُ الْجِبَالُ هَذَا أَنْ دَعَوا لِلحْمِن وَلَدَانِ وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَن أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا أَتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًان (مریم: ۹۱ تا ۹۴) یعنی اس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں۔اس لئے کہ انہوں نے رحمن کا ایک بیٹا پکارا ہے اور رحمن کی شان کے شایاں نہیں کہ وہ کوئی بیٹا بنائے آسمانوں اور زمین میں ہر شے رحمن کے حضور غلام ہو کر آئے گی۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وِرُدًا عِطَاشا: حضرت ابنِ عباس نے کہا ورگا کے معنی ہیں پیاسے۔فرماتا ہے: وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرُدان (مریم: ۸۷) یعنی اور ہم مجرموں کو ہانک کر جہنم میں پہنچائیں گے جس میں وہ پیا سے ہوں گے۔لفظ وردا کی شرح کتاب بدء الخلق باب صِفَةُ النَّارِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ میں بھی گزر چکی ہے۔اثانا کے معنی ہیں مال و دولت۔اس تعلق میں آیت مع ترجمہ ابھی گزر چکی ہے۔جہاں اس کے معنی ساز و سامان بتائے جاچکے ہیں۔آیت اَحْسَنُ آثَانَ و ریا (مریم: ۷۵) کے ایک دوسرے معنی قتادہ سے أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَحْسَنُ صورا مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۴۳) یعنی عیسائی لوگ مال و دولت میں دوسروں سے بڑھ کر ہیں اور اپنی ظاہری صورت و شکل اور لباس و وضع قطع میں بھی دوسروں سے زیادہ جاذب نظر ہیں۔ابو رزین سے دنیا کے معنی تیا با مروی ہیں اور ثعلبی نے لفظ دنیا کی قراءت زنایا بھی بیان کی ہے جس کے معنی ہیں هَيْئَةٌ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه (۵۴۲) (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۵۰) اس لئے دونوں روایتوں کے پیش نظر آیت کے معنی شکل و شباہت، وضع قطع اور لباس کی خوبصورتی کئے گئے ہیں اور واقعات اس شرح کی تصدیق کرتے ہیں۔ركزا صَوْتًا: اس سے مراد ہے آواز ، بھنگ اور آہٹ۔فرماتا ہے: وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هَلْ تُحِشُ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رکزان (مریم: ۹۹) یعنی اور ان سے پہلے کتنی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا، کیا تو اُن میں سے کسی کی آہٹ بھی محسوس کرتا ہے یا اُن کی بھنک سنتا ہے۔عیسائی قوم کی ہلاکت سے متعلق یہ واضح انذار