صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 160
صحیح البخاری جلد 17+ ۶۵ کتاب التفسير / القصص کے لئے خارق عادت اسباب پیدا کئے جائیں اور آیت کا یہ مفہوم ہو کہ اس ذات کی قسم ہے جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا ہے کہ تجھے تیرے موعودہ مقام عالی شان پر بحال کرے۔خصوصاً اس لئے کہ سورہ قصص کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: طسم ه تِلْكَ ايْتُ الكتبِ الْمُبِينِ تَتْلُوا عَلَيْكَ مِنْ نَبَا مُوسَى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (القصص: ۲ تا ۴) لطیف، سمیع اور مجید ( کی طرف سے) کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی وہ آیات ہیں (جن کا تعلق دُور در از زمانے سے ہے۔تِلْكَ جو ذالك کا مؤنث ہے بلند شان اور دور دراز زمانے دونوں کی طرف اشارہ ہے) ہم تجھ پر موسیٰ اور فرعون کا واقعہ پوری صحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔اس آخری حصے میں صراحت ہے کہ اصل مقصود مومنوں کی راہنمائی ہے۔اس کے بعد واقعات کو اسی پیرایہ میں چلاتے ہوئے آیت ۴۵ سے ۴۷ تک صراحت کی گئی ہے کہ ان پیشگوئیوں کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔جیسا کہ اس تعلق میں وہ آیات بیان کی گئی ہیں جن کا حوالہ امام بخاری نے شرح الفاظ میں دیا ہے۔