صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 159 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 159

صحيح البخاری جلد ۱۵۹ ۶۵ کتاب التفسير / القصص بَاب ۲ : إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ (القصص: ٨٦) الْآيَةَ ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) یقیناً وہ ذات جس نے قرآن تم پر فرض کیا ہے ٤٧٧٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۴۷۷۳: محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ يعلى بن عبید ) نے ہمیں خبر دی کہ سفیان (بن عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ لَرَادُّكَ إلى دينار) عصفری نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عکرمہ مَعَادٍ (القصص: (٨٦) قَالَ إِلَى مَكَّةَ سے عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: آیت لَرَادُكَ إِلى مَعَادٍ سے۔یہ مراد ہے کہ وہ تجھے مکہ میں واپس لے جائے گا۔یح: ح : إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ: حضرت موئی و ہارون علیہا السلام کا اور فرعون اور اس کی قوم کے بنی اسرائیل سے جابرانہ سلوک کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ ہم سے فرماتا ہے: وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَكِنْ رَحْمَةٌ مِنْ رَبَّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْتَهُمْ مِنْ نَذِيرٍ مِنْ قَبْلِكَ لَعَلَهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (القصص: ۴۷) اور اس وقت تو طور کے دامن میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کو پکارا لیکن تیرے رب کی طرف سے یہ ایک رحمت کا ذکر ہے تا کہ تو ایک ایسی قوم کو سزا سے متنبہ کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔یہ اسلوب خطاب بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہا السلام اور بنی اسرائیل کے واقعہ کا تعلق جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم سے ہے۔اسی اسلوب بیان کے تسلسل میں سورۃ کے آخری رکوع کی آیات بھی ہیں۔جن میں یہ آیت خاص طور پر قابل توجہ ہے: إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَرَادُكَ إِلى مَعَادٍ قُلْ أَبِي أَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بِالْهُدَى وَمَنْ هُوَ في ضَلالٍ مُّبِينِ (القصص: ۸۲) یقینا وہ ذات جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا ہے تجھے ضرور دوبارہ اس مقام کی طرف لوٹائے گا۔کہہ میر ارب خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے اور اسے بھی جو کھلی کھلی گمراہی میں ہے۔روایت نمبر ۴۷۷۳ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی فتح مکہ سے مخصوص ہے۔اگر چہ اس عظیم الشان فتح کے بارے میں الگ سورۃ ہے جو إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مبينا سے شروع ہوتی ہے۔ہمیں سیاق کلام پر نظر رکھ کر اس کا مفہوم سمجھنے میں مدد لینا ضروری ہے۔علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے کہ آیات قرآن مجید کے کئی بطون ہیں۔سورۃ القصص کی آیات کا سیاق و سباق اس امر میں مانع نہیں ہے کہ اس پیشگوئی کا تعلق اس دور دراز زمانے سے ہو جس میں امت محمدیہ کی حالت حکام غیر اقوام کے مکر و فریب سے بنی اسرائیل کی طرح خستہ حال ہو اور وہ انہی کی طرح دین سے روگردان اور غیر قوموں کے ذریعہ سے پامال شدہ ہوں اور وعدہ کے مطابق ان کی نجات