صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 158 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 158

۱۵۸ صحيح البخاری جلد ۶۵ کتاب التفسير القصص في أمها کا فقرہ اس کے مابعد کی آیت میں ہے: وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أَمَهَا رَسُولًا يتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِنِي الْقُرَى إِلا وَأَهْلُهَا ظلِمُونَ (القصص:۶۰) اور تیرارب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں تاوقتیکہ ان کے مرکز میں رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ہم بستیاں ہلاک کرنے والے نہیں مگر اسی حالت میں کہ جب اس کے باشندے ظالم ہوں۔فقرہ فی اُمہا سے متعلق دو قول مروی ہیں۔ایک ابو عبیدہ سے یعنی مکہ میں جو عربوں میں اُٹھ القری کے نام سے موسوم ہے اور دوسرا قول حسن بصری کا ہے، ان کے نزدیک فی اُمہا کے معنی ہیں فی اوائلها یعنی ہلاک کرنے سے پہلے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۷) آیات ما سبق وما بعد کا سیاق عام ہے جس میں الہی سنت بیان کی گئی ہے۔ابو عبیدہ کے نزدیک یہ سیاق خاص بھی ہو سکتا ہے۔اس کی دونوں تاویلیں درست ہیں اور ایک دوسری کے خلاف نہیں۔تکن یعنی چھپائے ہوئے ہیں۔وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تَكِنُ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الحَمدُ في الأولى وَالْآخِرَةِ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (القصص:۱۰) اور تیرا رب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو باتیں وہ لوگ کھلم کھلا کہتے ہیں اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ابتدائے آفرینش میں بھی وہ ستائش کا مستحق ہے اور آخرت میں بھی اور اس کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔وَيْحَانَ اللہ سے اس آیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔فرماتا ہے: وَأَصْبَحَ الَّذِينَ تَمَنَّوْا مَكَانَهُ بِالْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَانَ اللهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَوْ لَا اَنْ مَنَ اللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا وَيْكَانَهُ لا يُفْلِحُ الْكَفِرُونَ (القصص: ۸۳) اور وہ لوگ جو کل تک اس بات کے متمنی تھے کہ کاش قارون کی جگہ وہ ہوں (تعجب سے) کہنے لگے۔اللہ ہی یقیناً اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق میں فراخی دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگی کرتا ہے۔اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی وہ تباہ و ہلاک کرتا۔بات دراصل یہی ہے کہ کافر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔مذکورہ بالا آیت سے یہ امر ذہن نشین کیا گیا ہے کہ مال و دولت کی فراوانی کسی کے کام نہیں آتی بلکہ بالآخر اس کی تباہی کا موجب ہوتی ہے اگر اللہ تعالیٰ سے روگردانی اور معصیت کا موجب ہو۔قارون کا انجام دیکھ کر لوگ احسان مند ہوئے کہ وہ اس جیسے نہ تھے۔مابعد کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ انجام انہی کا اچھا ہوتا ہے جو زمین میں تعلی ، تکبر اور ظلم وجور نہیں کرتے اور فساد فی الارض کے مرتکب نہیں ہوتے۔سورۃ القصص کی محولہ بالا آیات کے سیاق و سباق سے یہی بتانا مقصود ہے کہ فرعون اور قارون صفت متکبر اور دولت مند اقوام کا انجام بھی یہی مقدر ہے۔محض پرانا قصہ دہرانا مقصود نہیں۔قرآن مجید نے بار بار اور شد و مد کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا ہے کہ وہ قصہ کہانیوں کی کتاب ہر گز نہیں۔خلاصہ یہ کہ امام بخاری نے مذکورہ بالا الفاظ کی شرح سے سورۃ القصص کا موضوع متعین کیا ہے۔