صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 157 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 157

صحيح البخاری جلد ۱۵۷ ۶۵ کتاب التفسير / القصص ان کے پیچھے لگادی اور قیامت کے روز اُن کا بہت ہی بُرا حال ہوگا۔مَقْبُوحِينَ، قَبحَ سے ہے جس کے معنی ہیں بد حال ہونا۔اس سے قبل آیت ۳۹ میں ذکر ہے کہ فرعون نے اللہ تعالیٰ کا مذاق اڑایا اور اپنے وزراء میں سے وزیر تعمیر ہامان سے کہا کہ میرے لئے ایک بلند و بالا برج بناؤ تا کہ میں وہاں جا کر موسیٰ کے خدا کی اطلاع پاسکوں۔فرماتا ہے: فَاخَذْنُهُ وَجُنُودَةُ فَنَبَلْ لَهُمْ فِي الْيَمِّ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّلِمِينَ (القصص: ۴۱) ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور انہیں سمندر میں پھینک دیا۔پس دیکھ کہ ظالموں کا انجام کیونکر ہوا۔حدیث میں آتا ہے کہ دجال کہے گا کہ ہم زمین کے نظم و نسق سے فارغ ہو گئے ہیں اب ہمیں آسمانی کائنات کی خبر لینی چاہیے اور وہ آسمان کی طرف اپنے تیر پھینکے گا اور وہ خون آلود ہو کر اس کی طرف لوٹیں گے۔ہمارے زمانے میں دجالی اقوام کی طرف سے نہایت قوی وسائل پرواز کے ذریعے سے جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ اس حدیث کی تصدیق کر رہی ہیں۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ فَلْتَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ، فَيَرْمُوْنَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَابَهُمْ مَحْضُوبَةً دَمًا۔(صحیح مسلم ، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب ذکر الدجال وصفته و ما معه) وصلنا: ہم نے کھول کر بیان کیا اور پورا کیا۔اس سے مراد یہ آیت ہے: وَلَقَد وَضَلْنَا لَهُمُ الْقَولَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ) (القصص: ۵۲) ہم ان کے لئے پے در پے وحی اتارتے رہے اور اسے کھول کر بیان کیا اور پورے طور پر واضح کیا تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔آیت کے یہ معنی مذکورہ بالا تشریح کو مد نظر رکھ کر کئے گئے ہیں جو ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۴۶) یه تکمیل وحی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک کے ذریعے سے ہوئی اور اس بارے میں صحف قدیمہ کے حوالے بار بار دیئے جاچکے ہیں۔مینجلی بھینچ کر لائے جاتے ہیں۔یعنی دور دراز جگہوں سے لائے جاتے ہیں۔اجبی بمعنی اجلب بھی ابو عبیدہ سے ہی مروی ہیں۔فرماتا ہے : وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ يُتَخَطَّفَ مِنْ اَرْضِنَا أَوَلَمْ تُمَيِّنَ لَهُمْ حَرَمًا أَمِنَّا يُجنِّى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (القصص: ۵۸) اور (کفار نے ) کہا کہ اگر ہم اس ہدایت کی تیرے ساتھ پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لئے جائیں گے۔کیا ہم نے انہیں ایسے مقام میں متمکن نہیں کیا جو محفوظ اور امن والا مقام ہے۔جہاں ہر قسم کے پھل باہر سے لائے جاتے ہیں۔یہ ہماری طرف سے عطیہ ہیں لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔بطرت: پھٹ گئے ، بگڑ گئے ، ناس کرنے لگے۔لفظ بطرت بمعنی اَشِرَتْ ابو عبیدہ ہی سے منقول ہے۔أَشِرَتْ کے معنی ہیں بَغَتْ وَطَعَتْ یعنی بغاوت کی، سرکش ہو گئے ، حدود سے بڑھ گئے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۷) فرماتا ہے: وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا فَتِلْكَ مَسْكِنَهُمْ لَمْ تُسْكَنَ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ وَكُنَّا نَحْنُ الورثين (القصص: ۵۹) اور بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا ہے جو اپنی افراط معیشت کی وجہ سے سرکش ہو ئیں سو یہ دیکھو ان کی بستیاں ہیں ان کے بعد وہ آباد نہیں ہوئیں اور ہم ہی وارث ہوئے۔