صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 156
صحیح البخاری جلدا ۱۵۶ ۶۵ - کتاب التفسير / القصص وَالْحَيَّاتُ أَجْنَاسُ الْجَانَّ وَالْأَفَاعِى وَالْأَسَاوِدُ : اور سانپ کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک قسم الْجَان کہلاتی ہے یعنی پتلا بار یک سانپ۔ دوسری قسم الأفاعي یعنی اژدھا۔ تیسری قسم الْأَسَاوِدُ یعنی کالے ناگ۔ لفظ جان اس آیت میں بیان ہوا ہے : وَ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَلَمَّا رَاهَا تَهْتَزُّ كَانَهَا جَانٌّ وَلَى مُدْبِرًا وَ لَمْ يُعَقِّبُ لِمُوسى أَقْبِلُ وَلَا تَخَفْ إِنَّكَ مِنَ الْآمِنِينَ (القصص: ۳۲) اور یہ کہ تو اپنی عصا پھینک دے سوجب اس نے اسے حرکت کرتے دیکھا گویا کہ ایک چھوٹا سا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (کہا گیا) اے موسیٰ! آگے بڑھو اور ڈرو نہیں تو سلامتی پانے والوں میں سے ہے۔ اس سے پہلے فرماتا ہے: فَلَمَّا انْتَهَا نُودِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبْرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ يَمُونَى إِنِّي أَنَا اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ (القصص: ۳۱) پھر جب وہ اس آگ کے پاس آئے تو بہت ہی مبارک وادی کے کنارے سے پکارے گئے جہاں ایک مبارک حصے میں ایک درخت تھا وہاں سے یہ آواز آئی ) اے موسیٰ ! میں اللہ رب العالمین ہوں۔ یہ بھی کشفی نظارہ ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ عصا پہلے سانپ کی طرح حرکت کرتا ہوا دکھائی دیا گیا۔ عصا پھینکنے سے مراد ترک اسباب کی تعلیم اور درس توحید ہے۔ جب مادی سہاروں کا بھروسہ ترک کر دیا جائے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اختیار کیا جائے تو وہ خارق عادت نتائج پیدا کرتے ہیں۔ یہی عصا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بحالت کشف ایک پہلے سانپ کی طرح دکھایا گیا۔ جب ساحران فرعون کے سامنے ڈالا گیا تو وہ عصا تعبان مبین یعنی ازدھا کی شکل میں تھا۔ (الأعراف: ۱۰۸) (الشعراء:۳۳) موقع و محل کی مناسبت سے عصا کے لئے ثُعبان اور جان کے الفاظ بیان ہوئے ہیں۔ طوری تجلی کے موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانا مقصود نہ تھا۔ لیکن فرعون کو جو معجزہ دکھایا گیا اس میں انذار مقصود تھا۔ جب فرعون اور اس کی قوم نے فائدہ نہ اٹھایا بلکہ اس کے خلاف آپ کو ہلاک کرنے کے لئے پیچھا کیا تو وہ آخر مع اپنے لاؤ لشکر کے غرق کر دیا گیا۔ اس سے آپ کے مکاشفے کی اصل حقیقت منکشف ہوئی۔ رداً : مُعِيْناً یعنی مدد گار۔ اس سے یہ آیت مراد ہے : وَأَخِي هَرُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنّى لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ ا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ (القصص: ۳۵) اور میرا بھائی ہارون بات کرنے میں مجھ سے زیادہ فصیح زبان ہے۔ اس لئے اسے میرے ساتھ بطور مدد گار کے بھیج کہ وہ میری تصدیق کرے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔ اس خواہش کے اظہار پر جو دعا کی صورت رکھتی ہے فرمایا: قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَنَا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِأَيْتِنَا أَنْتُهَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَلِبُونَ (القصص: ۳۶) ہم ضرور تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرے بازو کو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کے لئے غلبے کا سامان پیدا کریں گے۔ سو وہ تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ہماری آیات کے ساتھ ( اپنا فرض ادا کرتے رہو) تم دونوں اور جو تمہارے متبع ہیں وہی غالب ہوں گے۔ عَضُدا کے معنی ہیں بازو۔ مذکورہ بالا مکالمہ الہیہ کے تعلق میں اگلا باب بھی دیکھا جائے۔ مَقْبُوحِینَ یعنی ہلاک شدہ۔ فرعون اور اس کی قوم ہلاک کی گئی۔ فرماتا ہے: وَاتَّبَعْنَهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً ۚ وَ يَوْمَ الْقِيمَةِ هُمْ مِنَ الْمَقْبُوحِينَ (القصص: (القصص: ۴۳) اسی دنیا میں ان کی بد اعمالی کی وجہ سے ہم نے لعنت