صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 155
صحیح البخاری جلد ۱۵۵ ۶۵ - کتاب التفسير / القصص نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاهُمْ بِالْحَقِّ ( الكهف : ۱۴) یعنی ہم اس واقعہ کی خبر صحیح صحیح تجھ سے بیان کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ لفظ قص کلام کے معنوں میں بھی ہو۔ عَنْ جُنْب بمعنى عَنْ بُعْد : دور سے ، عَنْ جُنْبِ وَعَنْ جَنَابَةِ ایک ہی معنوں میں ہیں ، اور عَنِ اجْتِنَاب بھی کہتے ہیں۔ یعنی ایک پہلو میں نظروں سے بچتے بچاتے۔ يَبْطِشُ وَيَبْطُسُ قراءت میں دونوں طرح رح پڑھا جاتا ہے یعنی ہم گرفت میں لیتے ہیں۔ فرماتا ہے : فَلَمَّا اَنْ اَرَادَ أَنْ يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَهُمَا قَالَ يَمُوسَى أَتْرِيدُ أَنْ تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ * إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ (القصص: ۲۰) پس جب اس نے اس شخص کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو وہ کہنے لگا: اے موسیٰ! کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا۔ تو تو صرف یہ چاہتا ہے کہ ملک میں بطور جبار رہے (جو کمزور کو دباتے ہیں) اور تو نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں شامل ہو۔ یا ترُونَ يَتَشَاوَرُونَ یعنی آپس میں مشورہ کر رہے ہیں۔ جس سے یہ آیت مراد ہے۔ وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ يَسْعَى قَالَ يَمُوسَى إِنَّ الْمَلَا يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجُ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّصِحِينَ ) (القصص: ۲۱) اور ایک شخص شہر کے پر لے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، کہنے لگا: اے موسیٰ ! رؤساء مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں۔ اس شہر سے نکل جا۔ میں تیرے خیر خواہوں میں سے ہوں۔ الْعُدْوَانُ وَالْعَدَاءُ وَالتَّعَدِّي ایک ہی معنوں میں ہیں یعنی حدود سے تجاوز کرنا، زیادتی کرنا۔ حضرت موسیٰ نے حضرت شعیب سے کہا : ذلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَى وَاللهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ (القصص: (۲۹) یہ بات ۔ یہ بات میرے اور تمہارے درمیان قرار پاتی ہے دونوں مدتوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کردوں تو مجھ پر اس سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے اور جو کچھ ہم قرار پائیں اللہ ہی اس کے متعلق کارساز ہے۔ یعنی وہی شاہد ہے اور توفیق دینے والا ہے۔ انسَ أَبْصَرَ یعنی دیکھا، محسوس کیا۔ فرماتا ہے : فَلَمَّا قَضَى مُوسَى الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِ أَنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي أَنَسْتُ نَارًا لَعَلَى اتِيكُمْ مِنْهَا بِخَيْرٍ أَوْ جَزْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ (القصص: ٣٠) جب موسیٰ مقررہ میعاد پوری کر چکے اور اپنے اہل بیت کو لے کر چلے تو طور کی سمت سے انہوں نے ایک آگ دیکھی اور اپنے اہل بیت سے کہا: تم یہیں ٹھہر و میں نے آگ دیکھی ہے۔ شاید میں وہاں سے تمہارے لئے کوئی اہم خبر لاؤں یا آگ کا سلگتا ہوا انگارہ ہی لے آؤں کہ جس سے تم سینکو۔ ہے۔ الْجِزْوَةُ یعنی جلتی لکڑی کا موٹا ٹکڑا جس میں آگ تو ہو لیکن اس سے شعلہ نہ نکلے اور دوسری جگہ فرمایا: اتيكُم بِشِهَابٍ قَبَسٍ (النمل: ۸) یعنی سلگتا ہوا چنگارہ۔ سورۂ نمل (آیت (۸) کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ ایک آگ دیکھنے یا محسوس کرنے سے مراد آتش محبت الہی ہے جو بحالت مکاشفہ آگ کی شکل میں دکھائی گئی۔ بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ذہنی تصورات اور قلبی جذبات خواب یا کشف میں محسوس شکل میں نمایاں ہوتے ہیں اور ان کی تعبیر بصورت واقعات ظاہر ہوتی ہے۔ مذکورہ بالا روحانی مشاہدے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اسی قسم کی لا يُدرك روحانی کیفیت سے دوچار ہوئے، جو الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی۔