صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 154 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 154

صحيح البخاری جلد م ها ۶۵ کتاب التفسير / القصص ہیں لتقفل کہ یقینا وہ بوجھل ہوتیں۔اس سے یہ آیت مراد ہے: اِنَّ قَارُونَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَى فَبَغَى عَلَيْهِمْ - وَآتَيْنَهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنْوا بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقَوَةِ، إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ (القصص:۷) قارون دراصل موسیٰ ہی کی قوم میں سے تھا مگر وہ انہی کے خلاف ان پر ظلم کرتا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ جن کی کنجیاں ایک مضبوط جماعت بمشکل اٹھا سکتی تھی۔یاد کر جب اس کی قوم نے اسے کہا اتنا نہ اتراء اللہ اترانے والوں کو یقین نا پسند کرتا ہے۔اس آیت کی نہایت صحیح تشریح وہ ہے جو تفسیر صغیر کے حاشیہ میں بیان کی گئی ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خزانے حکومت مصر کے تھے جن کا نگران قارون مقرر کیا گیا۔گویا وہ انتظام مالی تحصیل کا سپر دکار تھا۔جب شاہ مصر کوچ کرتا تو سینکڑوں اونٹ خزانہ بردار ہوتے جن پر دوہرے صندوق لا دے جاتے تا وزن متوازن رہے اور فوج و ملازمین، سرکار کی تنخواہیں اور ان کے لئے رصد خوراک بہم پہنچانے میں آسانی ہو۔پرانے زمانے میں صندوقوں کی چابیاں لکڑی کی ہوتیں اور مکہ مکرمہ اور اس کے گردو نواح میں اب تک ایسی چابیاں مستعمل ہیں۔اگر دس ہزار شاہی عملہ اور فوج کی نفری ہو جو شاہ کے جلو میں کسی مہم پر جانے والی ہو تو صندوق اٹھانے کے لئے چار ہزار اونٹ بار برداری کی ضرورت ہو گی اور دو دو صندوق ایک ایک اونٹ پر لا دے جائیں تو آٹھ ہزار صندوقوں کی چوبی چابیاں سولہ ہزار کی تعداد میں اتنی وزنی ہوں گی کہ انہیں اٹھانے کے لئے جواں مردوں کی مضبوط جماعت چاہیے کیونکہ بغرض حفاظت خزانہ ہر صندوق کی چابی الگ بنائی جاتی یہ نہیں کہ ایک چابی سے وہ سب صندوق کھل جاتے ہوں۔بڑھتی اور لوہار اس صنعت میں بہت ماہر تھے۔اجنبی بادشاہوں کا قدیم سے یہ دستور تھا اور اب بھی انگریز وغیرہ حاکم اسی دستور کے عمل پیرا رہے ہیں کہ محکوم قوم پر ظلم کرنے کی غرض سے اسی میں سے منتظم بنا دیتے ہیں اور پھر وہ افسر اپنی قوم سے مالیہ اور ٹیکس وغیرہ وصول کرنے اور اپنے حکام بالا کو خوش رکھنے کے لئے اپنی ہی قوم پر ظلم کرتے اور اس خدمت گزاری کے صلے میں بڑی بڑی تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کرتے اور خود بھی امیر کبیر بن جاتے ہیں۔قارون بھی اسی قسم کا ایک اسرائیلی افسر تھا اور اس کا بھی یہی وطیرہ تھا جس کی وجہ سے وہ بھی زیر مواخذہ آیا۔(دیکھئے تفسیر صغیر بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی، سورۃ القصص حاشیہ آیت ۷۷) غرض یہ مفہوم ہے آیت إِنَّ مَفَاتِحَة لَتَنُوا بِالْعُصْبَةِ كا، جو قطعاً مبالغہ آمیز نہیں بلکہ بالکل صحیح اور قابل قبول تشریح ہے۔جس کی صحت تاریخ قدیم سے واقف اصحاب پر مخفی نہیں رہ سکتی۔وَ اصْبَحَ فَؤَادُ أُمّ مُوسَى فُرِغا یعنی موسیٰ کی یاد کے سوا ان کی ماں کا دل ہر خیال سے خالی ہو گیا تھا۔الْفَرِحِینَ الْمَرحِيْنِ یعنی خوش و خرم اترانے والے، اکڑ باز ، جو خوشی میں مغرور ہوں اور پھولے نہ سائیں۔قُضِيْهِ: اتَّبِعِيْ اثْرَهُ: اس کے پیچھے پیچھے رہو۔اس آیت کے بعد فرماتا ہے: وَقَالَتْ لِأُخْتِه قُضِيهِ فَبَصْرَتْ بِهِ عَنْ جُنْبِ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (القصص: ۱۲) اور (موسیٰ کی ماں) نے اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا سو وہ دور سے نظر بچاتے ہوئے اسے دیکھتی رہی۔قص يَقُصُّ واقعہ بیان کرنے کے معنوں میں بھی آتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے : نَحْنُ