صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 153 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 153

صحيح البخاری جلد ۱۵۳ ۶۵ کتاب التفسير / القصص بھی تقاضا تھا کہ ان کی زندگی کے آخری لمحات تک آپ ان کی ہدایت کے لئے کوشش فرماتے۔دونوں باتوں میں تضاد نہیں کہ مذکورہ بالا اختلاف سے متعلق بحث اٹھائی جائے۔زیر باب روایت سے یہ امر پورے طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ ہدایت و عدم ہدایت دراصل اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے۔جس کے لئے اس نے بعض شرائط مقرر فرمائی ہیں۔جب تک وہ شرطیں کسی انسان میں نہ پائی جائیں ہدایت سے متعلق اس کی مشیت کار فرما نہیں ہوتی۔اس باب کی روایت میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود بڑی خواہش رکھنے اور کوشش کے اپنے چا ابو طالب کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔مذکورہ بالا واقعہ تلقین نبوی آیت انك لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ کی تشریح عمدگی سے کرتا ہے۔ہدایت پانے میں انسان کے اپنے اعمال کا دخل ہوتا ہے اور انہی اعمال سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس سے تعلق میں بندے کارویہ تعین ہوتا ہے۔وَاَنْزَلَ اللهُ فِى أَبِي طَالِب : آیت کریمہ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ کے نزول کے تعلق میں امام ابن حجر نے یہ اشکال اٹھایا ہے کہ ابو طالب کی وفات مکہ مکرمہ ہجرت سے قبل ہوئی تھی اور تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ میں آئے تو آپ اپنی والدہ کی قبر پر گئے اور چاہا کہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں۔اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور آپ رک گئے۔حاکم و ابن ابی حاتم کے نے حضرت ابن مسعود کی اور طبری سے کی مستند روایت اسی بارہ میں ہے کہ اس عمیرہ کے وقت آنحضرت علی علیم ایک قبرستان میں آئے۔ایک قبر کے پاس دیر تک خاموش کھڑے رہے اور طبرانی کے نے بھی حضرت ابن عباس کی روایت اس بارہ میں نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۵) بعض روایتوں میں تو آیت کے نزول کا صریح ذکر ہے اور بعض میں نہیں جس سے پایا جاتا ہے کہ ابو طالب کی وفات کے وقت نہیں بلکہ اس کے بعد یہ نازل ہوئی ہے اور آیت کا سیاق عام ہے۔امام بخاری کی مذکورہ بالا روایت کے آخری حصے پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ پہلی آیت کے شان نزول کا تعلق مشرکوں سے اور ابو طالب سے من حیث العموم ہے اور آيت إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبُت کے نزول کا تعلق ابو طالب کے ساتھ من حیث المخصوص ہے۔یہی وجہ ہے کہ روایت جس کے متعلق اختلاف ہے آیت کے تابع رکھی گئی ہے۔پہلے باب کی روایت میں کچھ اور الفاظ کی شرح بھی خلاف عادت منقول ہے جو حسب ذیل ہے: قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أُولِي الْقُوَّةِ لَا يَرْفَعُهَا : حضرت ابن عباس نے کہا: لَتَنُوا بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ میں اُولِی القُوق سے یہ مراد ہے کہ آدمیوں کی کئی مضبوط ٹولیاں ان چابیوں کو نہیں اٹھا سکتی تھیں۔کتنوا کے معنی (المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب التفسير ، تفسير سورة التوبة روایت نمبر (۳۲۹۲) (تفسير ابن أبي حاتم ، سورة التوبة، مَا كَانَ لِلنَّبِي وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا روایت نمبر ۱۰۰۵۱) (تفسير الطبري، سورة التوبة ، مَا كَانَ النَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا ) (المعجم الكبير للطبرانی، باب العين، عكرمة عن ابن عباس روایت نمبر ۱۲۰۴۹ جزءا ا صفحه ۲۹۷،۲۹۶)