صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 152
صحيح البخاری جلد ۱۵۲ ۶۵ کتاب التفسير / القصص ، يُوَسِعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ عَلَيْهِ۔مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ ہیں ہم تمہاری مدد کریں گے۔جب کبھی تم نے لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ (بنی اسرائیل: ۳۱) کسی کو مضبوط کیا تو (عربی محاورہ کے مطابق) گویا تم نے اس کا ایک بازو زیادہ کر دیا۔مَقْبُوحِيْنَ کے معنی ہیں ہلاک شدہ۔وصلنا سے مراد ہے ہم نے کھول کر بیان کیا اور اسے پورا کیا۔نجیبی کے معنی ہیں کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔بطرت یعنی وہ متکبر ہو گئی۔فِي أُمَّهَا رَسُولًا میں أُم سے مراد ہے أُمّ القُرى ( یعنی مکہ ) اور جو اس کے ارد گرد آباد ہے۔تکون کے معنی ہیں وہ چھپاتی ہے۔أَكْنَنتُ الشَّيْء یعنی میں نے اسے چھپا لیا۔اور گننتہ کے معنی بھی یہی ہیں۔اور کبھی (اس کے معنی ) أَظْهَرْتُهُ بھی ہوتے ہیں (یعنی میں نے اس کو ظاہر کر دیا۔) وَيْكَانَ اللہ کا فقرہ الم ترَ انَّ الله کی طرح ہے یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔يَبسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَ يَقْدِرُ کے معنی ہیں جس کے لیے چاہتا ہے رزق کی کشائش کرتا ہے۔اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کرتا ہے۔تشريح : إِنَّكَ لَا تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ : اس آیت کے موقعہ نزول کی نسبت سب متفق ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی جیسا کہ روایت زیر باب میں اسی کی صراحت ہے۔لیکن مَنْ أَحْبَبْتَ سے متعلق بعض علماء کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ آیا احببت سے مراد یہ ہے: مَنْ أَحْبَبْتَ هِدَايَتَہ کہ جسے ہدایت دلانا تجھے محبوب ہے یا اس سے یہ مراد ہے: مَنْ أَحْبَبْتَهُ هُوَ لِقَرَابَتِهِ مِنگ۔یعنی جس سے تجھے اس لئے محبت ہے کہ وہ تیرا قریبی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۴۳) روایت زیر باب اس بارہ میں واضح ہے کہ آپ ابو طالب کی ہدایت کے خواہاں تھے جو مقدم غرض تھی۔علاوہ ازیں نہ صرف آپ کے چاتھے بلکہ ایسے چا جن کا سایہ آپ پر بطور مشفق باپ کے تھا اور وہ آپ کی حمایت و حفاظت میں کمر بستہ رہے بلکہ بحالت یتیمی انہیں کی پرورش میں تھے۔ان کے اس نیک سلوک کا