صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 6 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 6

-۲۵ کتاب التفسير / كهيعص - صحیح البخاری جلد قَالَ أَرَاغِبُ اَنْتَ عَنْ الهَتِى يَابْرُهِيمُ لَبِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيَّان (مریم: ۴۷) (ابراہیم کے باپ نے) کہا: اے ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے متنفر ہے ؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کروں گا اور ( بہتر ہے تو کچھ دیر کے لئے میری نظروں سے اوجھل ہو جا، تاغصے میں میں کچھ کر نہ بیٹھوں۔) رجم کے معنی سنگساری بھی ہیں جو ایک مرتد کی سزا تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ پدری محبت کی وجہ سے ان سے مطالبہ کیا کہ اس کی نظر سے کچھ دیر کے لئے چلے جائیں مبادا ان کے خلاف باپ کو سخت کارروائی کرنی پڑے۔توحید کا وعظ مشرکین کو سخت اشتعال دلانے والا تھا اس لئے لارجنگ کی شرح میں زبان کی سختی پر اکتفا کرنا موقع و محل کے مناسب نہیں۔لفظ رجم کے جو بھی سخت سے سخت معانی ہیں وہ سب ہی مراد ہیں جن میں سخت کلامی بھی شامل ہے اور سنگساری بھی۔مشرک اور مخالف لوگ انبیاء کے خلاف ہر نوع کی سختی کرتے ہیں۔ریا کے معنی ہیں منظرا یعنی دیکھنے میں۔فرماتا ہے: وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَنَا نَا وَرِيَّا (مریم: ۷۵) اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے زمانوں کے لوگوں کو ہلاک کیا ہے جو بلحاظ ساز و سامان اور ظاہری شان و شوکت نمائش ان لوگوں سے بہت اچھے تھے۔اس سے پہلی آیت میں کفار کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ مومنوں سے مقام و درجہ اور سوسائٹی ہر لحاظ سے بہتر ہیں۔سورۃ مریم آیت نمبر ۷۵ میں اُن کے اس فخر اور گھمنڈ کا جواب دیا گیا ہے یہ ساز و سامان اور شان و شوکت ان کو موعودہ ہلاکت سے نہیں بچائے گی۔دنیا بمعنی منظر اور آفانا بمعنی ساز و سامان حضرت ابن عباس سے مروی ہیں جو ابن ابی حاتم نے ابو ظبیان کی سند سے نقل کیے ہیں اور حسن بصری کی سند سے الصور مروی ہیں یعنی صورت و شکل میں۔ابو قتادہ سے بھی یہی مفہوم مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۲) وَقَالَ أَبُو وَائِلِ عَلِمَتْ مَرْيَمُ : ابو وائل نے کہا کہ حضرت مریم علیہا السلام کو علم ہو گیا تھا کہ متقی بدی کے ارتکاب سے رکتا ہے اس لئے انہوں نے کہا: انّى اَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا (مریم:۱۹) یعنی میں تجھ سے رحمن کی پناہ چاہتی ہوں اگر تو متقی ہے۔ابو وائل کا یہ قول کتاب احادیث الانبیاء میں گزر چکا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ۴۸) وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ تَؤُزُّهُمْ أَذًا: اور ابن عیینہ نے کہا توزُّهُمْ اَنَّا سے مراد ہے تُزْعِجُهُمْ إِلَى الْمَعَاصِي إِزْعَاجا یعنی انہیں معصیت پر اکساتے ہیں۔فرماتا ہے : أَلَمْ تَرَ انَّا اَرْسَلْنَا الشَّيطِينَ عَلَى الْكَفِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَنَّا O (مریم: ۸۴) کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہم نے شیطانوں کو چھوڑ رکھا ہے کہ وہ کافروں کو اکساتے رہیں۔فَلا تعجل عَلَيْهِمْ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدَّاه (مریم: (۸۵) سو اُن کے خلاف جلدی میں کوئی قدم نہ اٹھا۔صرف یہ ڈھیل جو انہیں دی گئی ہے اس سے ہم ان کے لیے بہت بڑی تیاری کر رہے ہیں۔اس آیت میں تَؤْذُهُمْ أَذًا جو آیا ہے اس سے سفیان ثوری نے اغراء مراد لیا ہے یعنی جذبات کو بھڑکانا اور شدی نے تَطْعِيْهِمْ طُغْيَانًا مراد لیا ہے یعنی حدود سے نکالنا۔لیکن سفیان بن عیینہ نے اپنی تفسیر میں ازعاجا ہی نقل کیے ہیں اور عبد الرزاق کے نزدیک بھی یہی معنی ہیں (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۴۳) عیسائی قوموں نے جن وسائل معصیت اور بے راہ روی کو رواج دیا ہے وہ مع نتائج ہمارے سامنے ہیں۔فحش لٹریچر کی اشاعت، سینماؤں کی تصویریں، تماشہ بنی کے مختلف وسائل اور بر ہنہ و نیم برہنہ