صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 150
صحيح البخاری جلد ۱۵۰ ۶۵ - كتاب التفسير / القصص وَيُعِيْدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتَّى قَالَ رہے اور وہ دونوں اپنی وہ بات بار بار دہراتے أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلَى مِلَّةِ رہے یہاں تک کہ ابوطالب نے آخری بات جو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ اُن سے کہی وہ یہ تھی کہ عبد المطلب کے مذہب إِلَّا اللهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله پر ہی۔اور انہوں نے لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ کیا۔حضرت مسیب کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی ا یم أُنْهَ عَنْكَ فَأَنْزَلَ اللهُ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ نے فرمایا: (اللہ کی قسم !) میں اس وقت تک آپ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِيْنَ کے لئے ضرور استغفار کرتا رہوں گا جب تک کہ (التوبة : ١١٣) وَأَنْزَلَ اللهُ فِي أَبِي آپ کی نسبت میں روک نہ دیا جاؤں۔پھر اللہ نے یہ وحی نازل کی: مَا كَانَ لِلنَّبِي۔۔یعنی نبی اور ان طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں شایاں نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں (یعنی ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیا جائے۔) اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ۔(القصص: ٥٧) ابو طالب کی نسبت اللہ نے یہ آیت نازل کی اور أطرافه : ١٣٦٠، ٣٨٨٤، ٤٦٧٥، ٦٦٨١- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: تو جس کو پسند کرے ہدایت نہیں دے سکتا لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أُولِي الْقُوَّةِ (القصص: ۷۷) حضرت ابن عباس نے فرمایا: أُولِي الْقُوَّة سے یہ لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ لَتَنْوا مراد ہے کہ آدمیوں کی کوئی مضبوط ٹولی ان (القصص: ۷۷) لَتُنْقِلُ۔فرغا (القصص: ۱۱) چابیوں کو نہیں اٹھا سکتی تھی۔کتنو ا سے مراد ہے إِلَّا مِنْ ذِكْرٍ مُؤسَى الْفَرِحِينَ کہ یقینا وہ بوجھل ہوتیں۔فرغا یعنی موسیٰ کی یاد (القصص: ۷۷) الْمَرِحِينَ۔قُضِيهِ کے سوا ان کی ماں کا دل ) ہر خیال سے خالی ہو گیا (القصص: ۱۲) اتَّبِعِي أَثَرَهُ۔وَقَدْ يَكُونُ تھا۔الْفَرِحِینَ کے معنی ہیں خوش و خرم، اتراتے