صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 148 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 148

صحیح البخاری جلد ۱۴۸ ۶۵ - کتاب التفسير / القصص ۲۸- سُوْرَةُ الْقَصَصِ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ (القصص: ۸۹) كُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ یعنی ہر شے ہلاک إِلَّا مُلْكَهُ۔ وَيُقَالُ إِلَّا مَا أُرِيدَ بِهِ وَجْهُ ہونے والی ہے سوائے اس کی بادشاہت کے۔ اور اللهِ۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ (یہ بھی) کہا جاتا ہے کہ سوائے اس عمل کے الأنباء (القصص: ٦٧) الْحُجَجُ۔ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مطلوب ہو۔ اور مجاہد نے کہا: فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمْ الانباء پس خبریں ان پر مشتبہ ہو جائیں گی۔ تشريح : الا وجهه یعنی سوائے اس کی بادشاہت کے۔ اس سے مراد یہ آیت ہے: وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ الها أخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِك إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ یه ترجعون (القصص: ۸۹) اور تو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو مت پکار۔ کوئی معبود نہیں مگر وہی۔ ہر شے ہلاک ہونے والی ہے مگر وہ عمل جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مطلوب ہو ۔ اس کی حکومت ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔ وَجْهَا کے معنی جو بادشاہت کے کئے گئے ہیں وہ نسفی کی روایت کے مطابق معمر ابو عبیدہ نے (اپنی کتاب مجاز القرآن میں ) بیان کئے ہیں۔ طبری نے بعض ادباء عرب سے اس کے معنی الا هو نقل کئے ہیں اور ابو عبیدہ سے بسند ابن التین إِلَّا وَجْهَهُ بمعنی إِلَّا جَلَالَهُ بھی منقول ہیں۔ کہتے ہیں: اَكْرَمَ اللهُ وَجْهَكَ یعنی اَكْرَمَكَ الله: اللہ تجھے عزت بخشے۔ وَيُقَالُ إِلَّا مَا أُرِيدَ بِهِ وَجْهُهُ کہ ہر شے ہلاک ہونے والی ہے سوا اس بات کے جس کے ذریعے رضائے الہی مقصود ہو۔ امام طبری ہی نے یہ مفہوم بعض ادباء عرب سے نقل کیا ہے۔ اور ابو عبیدہ نے بھی یہ مفہوم قبول کیا ہے۔ سفیان ثوری نے بھی الا وجھہ کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: إِلَّا مَا ابْتَغِي بِهِ وَجْهُ اللَّهِ مِنَ الْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ ۔۔ وَالْمُرَادُ بِالْوَجْهِ مَا عُمِلَ لِأَجْلِهِ یعنی وہ اعمال صالحہ جن کے ذریعے اللہ کی رضا مندی حاصل کی جائے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۴۲) یہ آیت سورۃ القصص کی آخری آیت ہے۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الأنباء : پس خبریں ان پر مشتبہ ہو جائیں گی۔ اور وہ اس دن حجت بازیاں بھول جائیں گے۔ پوری آیت مع سیاق و سباق یہ ہے : وَ يَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَا ذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ فَعَمِيَتُ عَلَيْهِمُ الْأَنْبَاءُ يَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا يَتَسَاءَلُونَ ، فَأَمَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسَى أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُفْلِحِينَ ) (القصص: ۶۶ تا ۶۸) اور جس دن وہ انہیں پکارے گا اور کہے گا تم نے رسول کی دعوت کا کیا جواب دیا۔ سو اس دن (تفسير الطبري، تفسير سورة القصص، وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ الهَا آخَرَ )