صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 147
صحیح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / النمل رہتا۔چنانچہ قوم سباء جو علاقہ یمن کے اطراف میں آباد تھی، ان کے نمائندے موجو د رہتے۔ایسا ہی ادومی مجدی وغیرہ مفتوح قبائل کے نمائندے بھی حاضر رہتے۔معائنہ کرنے کے دوران انہیں ہد ہد نامی رئیس کی غیر حاضری کا احساس ہوا اور انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک اہم غرض سے باغی قبائل کی خبر لانے کے لئے گیا ہوا ہے۔یہ قبائل باجگزار ریاستیں تھیں جن کا مذہب کو اکب پرستی تھا۔سورہ نمل کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں شرک کی لعنت سے نجات دی جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی اصل غرض ہوتی ہے۔سورۃ النمل کا سیاق دوہرا ہے۔گزشتہ انبیاء بنی اسرائیل کے واقعات کے ذکر میں ضمناً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ کی فتوحات کی اصل غرض بتائی گئی ہے۔آپ کا زمانہ مبارک آئندہ صدیوں پر ممتد ہے اور بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل قوم کی طرح مسلمان بھی شریعت پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے اور اجانب اقوام کے زیر دست ہو جائیں گے اور ان کی خستہ حالی بھی بنی اسرائیل کی خستہ حالی سے کم نہ ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے احیاء ثانی اور تجدید شریعت کا بھی ایک دور مقرر کیا ہوا ہے۔حروف مقطعات طلس سے سورۃ النمل کا بھی عنوان شروع ہوتا ہے اور سورۃ الشعراء کا بھی۔جس سے ظاہر ہے کہ دونوں کا مضمون ایک دوسری سے متصل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے دو زمانے یا دور ہیں جن میں آپ کی بعثت کے مقاصد کی تکمیل اور تمام قوموں کے لئے آپ کی دعوت توحید کے بارے میں واضح پیشگوئیاں ان سورتوں میں ہیں۔