صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 146
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / النمل زیر آیت حَتَّى إِذَا أَتَوْا عَلَى وَادِ النَّمْلِ۔۔۔نملہ جس نے اپنی قوم کو مشورہ دیا تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا مقابلہ نہ کیا جائے ورنہ کچل دیئے جاؤ گے اس قوم کا ایک فرد تھا۔دوسرا لفظ الھد ھذ ہے جس سے بوجہ ناواقفی سمجھا جاتا ہے کہ الھدھد پرندہ تھا جو خبر لانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قدیم زمانے میں کبوتر وغیرہ کی قسم کے پرندوں سے خبر رسانی کا کام لیا جاتا تھا اور ان کی تربیت اسی غرض کے لئے کی جاتی تھی جو ہمارے زمانے میں برق رفتار وسائل خبر رسانی ایجاد ہونے کی وجہ سے متروک ہیں اور آیت وَحُشِرَ لِسُلَيْنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنَّ وَ الْإِنسِ وَالطَّيْرِ (النمل: (۱۸) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فوج میں جہاں پہاڑی اور بد وی اور متمدن قبائل بھرتی کئے جاتے تھے وہاں خبر رسانی کے تعلق میں پرندوں کی بھی پرورش کی جاتی تھی۔لیکن آیت ۲۱ میں الهُدهُد نامی ایک شخص ہے۔عبرانی اور عربی اقوام میں خاندان کے نام اس کے بڑے آدمیوں کے نام پر رکھے جاتے تھے جیسے بنی ذئب، بنی خزرج اور بنی اوس وغیرہ۔اسی طرح ایک ارامی بادشاہ بن بُرد “ کا ذکر گزر چکا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں۔و ممکن ہے کہ یہ ہد ہد عرب قبیلہ کا کوئی سردار ہو کیونکہ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام بھی ہد ہد تھا اور تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت تک اس رستے میں جو فلسطین سے یمن کی طرف آتا ہے عرب قبیلے بستے تھے۔(تقویم البلدان) اور چونکہ عربوں اور یہودیوں کی باہم سخت چپقلش تھی اور گو وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ماتحت آگئے تھے۔لیکن مخالفت اب تک باقی تھی۔اس لیے جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھا کہ عرب قوم کا ایک سردار غائب ہے تو اُن کے دل میں شبہ پیدا ہوا اور وہ ناراض ہو گئے اور یمن چونکہ عرب کا ایک حصہ ہے اس لیے یہی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورة النمل، آیت ۲۱ جلد ۷ صفحه ۳۷۴، ۳۷۵) آیت وَتَفَقَدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا ليَ لاَ اَرَى الْهُدَهُدَ اَم كَانَ مِنَ الْغَابِينَ ) (النمل: ۲۱) سلیمان (علیہ السلام) نے معائنہ کیا اور کہا کہ کیا ہے میں ہدہد کو (کچھ عرصہ سے) نہیں دیکھ رہا یا وہ غیر حاضروں میں سے ہے۔كَانَ مِنَ الْغَارِبِينَ کے صیغوں کا تعلق انسانوں سے ہے اور اس کی غیر حاضری کی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ فرمانا لاعَد بَنَهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَا أَذْبَحَبَّةَ أَوْ لَيَأْتِيَنَى بِسُلْطن مُّبِيْنٍ ( النمل: ٢٢) لفظ عذاب اور ذبح بمعنی سزا یا قتل سے ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ میں ضرور اسے سخت سزا دوں گا یا اسے قتل کر دوں گاور نہ اسے اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ بیان کرنی ہو گی جو واضح اور قابل قبول ہو۔زبان عربی میں ذبح بمعنی قتل بھی آتا ہے۔(دیکھئے تاج العروس من جواهر القاموس - ذبح) قدیم سے یہ دستور رہا ہے کہ سرکش اور بغاوت سے مانوس قبائل جب مغلوب ہو جاتے تو ان کے رؤسا میں سے کوئی نہ کوئی نمائندہ فاتح بادشاہ کے دربار میں موجود