صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 145
۱۴۵ صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / النمل انہیں باز رکھنے کی کوشش کی مگر وہ باز نہ آئے۔رجوع الی الحق کی انہیں وعظ و نصیحت کی گئی۔نحمیاہ، عزرا، ایلیاہ وغیرہ انبیاء و مصلحین کا ذکر صحف عہد نامہ قدیم میں آیا ہے۔لیکن ان کی کوششوں نے خاطر خواہ نتیجہ پیدا نہیں کیا۔آخر بطور سزا اُن پر جابر مشرکین مسلط کئے گئے اور الہی گرفت نہایت ہیبت ناک صورت میں ظاہر ہوئی۔جہاں جہاں ان کی تھوڑی بہت حکومت تھی تباہ کی گئی۔مثلاً سامریہ میں بن بدد شاہ ارام بہت بڑے لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوا اور اس نے بنی اسرائیل پر طرح طرح کے ظلم توڑے۔یہ واقعہ ایلیاہ (الیاس) نبی علیہ السلام کے زمانے کا ہے۔(دیکھئے ا۔سلاطین باب ۲۰، ۲۱) اور اس وقت اخی آب شاہ اسرائیل تھا۔اسی طرح نبو کد نضر شاہ بابل نے ۵۸۶ ق م میں یروشلم پر حملہ کیا اور اس کے در و دیوار کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور بنی اسرائیل کے گھر بار نظر آتش کر کے راکھ کر دیئے گئے اور ان میں سے جو زندہ باقی رہے انہیں قید کر کے بطور اسیر اپنے ساتھ اپنے ملک میں لے گیا اور پھر ان سے حیوانوں کا سا سلوک کیا۔کھیتی باڑی میں ان کی گردنوں میں جوکا ڈال کر ان سے قلبہ رانی اور آبپاشی کا کام لیا جاتا تھا اور شستی دکھانے پر وہ کوڑوں سے پیٹے جاتے اور ان کی عورتوں سے بابلی لوگ بے دھڑک شہوت رانی پوری کرتے۔یہ عذاب الہی عبرت کا نمونہ تھا۔(دیکھئے ۲۔سلاطین باب ۲۵) سورۃ النمل میں اس کا ذکر بلاوجہ نہیں بلکہ اس میں مسلمانوں کی اس حالت کا ذکر ہے جس میں انہوں نے یہود و نصاری سے ( شبرا بیشتر ) پوری پوری مشابہت کرنی تھی اور ویسا ہی سلوک الہی ان کے لئے بھی مقدر تھا جو راہ مستقیم سے برگشتہ قوم بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا تھا۔طس تِلكَ أيْتُ الْقُرْآنِ وَ كِتَابٍ مُّبِينِ (النمل:۲) سے اسی طرف اشارہ ہے۔تفسیر کبیر میں حروف مقطعات ط سے لطیف (لطف و مہربانی کرنے والا ) س سے سمیع ( دعاؤں کو سننے والا) کی صفات باری تعالی کی طرف اشارہ ہے اور آیات سے وہ نشانات الہی مراد ہیں جو مسلمانوں کے احیاء ثانی اور تجدید شریعت کے تعلق میں دکھائے جانے مقدر ہیں۔فرماتا ہے : وَمَا مِنْ غَابَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا في كِتَبِ مُّبِيْنٍ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (النمل: ۷۶ ۷۷) اور کوئی بھی چھپی ہوئی بات آسمان میں اور زمین میں نہیں ہے مگر وہ ایک کتاب مبین میں محفوظ ہے اور یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے بہت سی ایسی باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔وَ إِنه لَھدی و رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ (النمل: (۷۸) اور یقیناً یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔مذکورہ بالا پس منظر بیان کرنے کے بعد اب دو باتوں کی وضاحت کا سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ایک وادی النمل اور نملہ کا قول کہ اپنے اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ مبادا حضرت سلیمان اور ان کے لشکر تمہیں کچل دیں۔جہالت سے سمجھا جاتا ہے کہ اس سے چیونٹیاں مراد ہیں بحالیکہ وادی النمل کے نام سے ایک معروف علاقہ ہے جو دمشق سے سو میل کے فاصلے پر جنوب مغربی جہت میں واقع ہے اور نملہ نام کی قوم کے بہت قبائل تھے جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی اطاعت قبول کی۔دیکھئے تفسیر صغیر بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی، تفسیر سورۃ النمل