صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 144
صحيح البخاری جلد سوم نما ۶۵ کتاب التفسير / النمل باجگزار ریاست کے حضرت سلیمان علیہ السلام کی اطاعت میں داخل ہو چکی تھی لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کی فتوحات سے غرض محض فتح اور توسیع مملکت نہ تھی۔وہ دلوں میں الہی محبت و اطاعت کی روح پھونکنا چاہتے تھے۔اگر فقرہ وَ كُنَّا مُسلِمِینَ سے اقرار صحت نبوت و دین حق کو قبول کرنا مراد ہوتا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کو کسی اور تدبیر کے اختیار کرنے کی ضرورت نہ تھی جس کا ذکر مابعد کی آیات میں کیا گیا ہے۔اس لئے مجاہد کا قول ہی درست ہے۔بعد کی آیت میں فرماتا ہے : قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الفَرْحَ فَلَمَّا رَآتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَةً وَ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا ۖ قَالَ إِنَّهُ صرح مُمَرَّدُ مِّن قَوَارِيرَ قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِى وَ أَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) (النمل: ۴۵) اسے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو جاؤ۔پس جب اس نے وہ محل دیکھا تو اسے گہر اپانی سمجھا اور گھبرا گئی۔تب سلیمان علیہ السلام نے کہا یہ تو محل ہے جو شیشوں سے پختہ بنایا گیا ہے۔تب وہ بولی: اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے سامنے سر نیاز جھکاتی ہوں یعنی وہ اپنی غلطی سمجھ گئی کہ جس طرح شیشے کے نیچے پانی نظر آتا ہے اسی طرح سورج کا نور خالق کا ئنات رب العالمین کے فیوض ربوبیت کی وجہ سے ہے۔سورج اور کو اکب پرستی کھلی غلطی ہے۔خدائے معبود ایک ہی ہے۔سورۃ النمل کی آیات کا تعلق حضرت داؤد و سلیمان کے زمانہ سے ہے۔اس لئے اس زمانہ میں بنی اسرائیل وغیرہ قوموں کے حالات کا علم ہونا ضروری ہے جو عہد قدیم کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔فلیستی، موآبی، مدیانی اور عمالیقی وغیرہ مشرک اقوام کے ظالم اور جابر بادشاہ بنی اسرائیل کو اپنا محکوم بنا چکے تھے اور اُن سے ہر قسم کی بدی اور ظلم کا ارتکاب بے دھڑک کرتے تھے اور یہ اپنی سزا تھی۔(قضاۃ باب ۳: ۱۳، ۱۴) ( قضاة باب ۴: ۳) (قضاۃ باب ۶ : ۱ تا ۶ ) ( قضاة باب ۱:۱۳) (۱۔سموئیل باب ۱۲: ۹) (۱۔سموئیل باب ۱:۳۰) بنی اسرائیل انتہائی درجہ کی خستہ حالی میں تھے جب حضرت داؤد علیہ السلام اور اُن کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام مامور ہوئے اور آخر اُن کی آہ و بکا اور گریہ وزاری سنی گئی اور اُن پر رحم ہوا اور وہ بیت المقدس میں لائے گئے اور حمد وثنا کے ترانے بلند ہوئے۔مزامیر زبور، امثال اور غزل الغزلات کے مطالعہ کرنے سے بھی ان ظالم بادشاہوں سے اُن کی نجات کا علم ہوتا ہے۔(دیکھئے زبور باب ۳۱: ۴ تا ۱۷، باب ۳۸ : ۱۲ تا ۱۶) امثال اور واعظ اکثر نصائح پر مشتمل ہیں جو بنی اسرائیل کو کی گئیں۔زبور اور غزل الغزلات عشق الہی کے ترانوں کا مجموعہ ہیں۔جن کی صدائیں بنی اسرائیل کے دلوں کو موم کرنے کے لئے بلند کئی گئیں اور ان کے ذریعہ نیکی اور توحید کا درس بنی اسرائیل کو نئے سرے سے پڑھایا گیا اور ان کے احیاء و تجدید کا زمانہ شروع ہوا۔القبس سے مراد یہی وہ آتش محبت الہی کی چنگاری ہے جو دلوں میں جلائی گئی تا اس سے نارونور حاصل کیا جا سکے۔پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل فراوانی دولت اور کشائش و آسائش کی وجہ سے اپنی شریعت پر عمل کرنا چھوڑ بیٹھے تھے۔پے در پے ان میں انبیاء اور مسجد دین و مصلحین مبعوث ہوتے رہے۔ہر چند