صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 143 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 143

صحيح البخاری جلد ۱۴۳ -۲۵ کتاب التفسير / النمل اس کے علاوہ ان آیات کا ایک اور پس منظر ہے جس کا تعلق بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہے یعنی ان کے احیاء ثانی و تجدید شریعت سے جس کا ذکر مفردات کی تشریح کے بعد کیا جائے گا۔اس سورۃ کے سمجھنے کے لئے اس تاریخی پس منظر کا سمجھنا بھی از بس ضروی ہے۔کتب تفاسیر میں دور از حقیقت قصے بصورت روایات نقل کئے گئے ہیں جو امام بخاری نے ناقابل اعتبار سمجھ کر سرے سے نظر انداز کر دیئے ہیں۔چنانچہ سورہ نمل کے تعلق میں صرف الفاظ کا مفہوم ہی بیان کیا گیا ہے اور کتب تفسیر کی روایات میں سے ایک روایت بھی درست قبول نہیں کی۔فَجَزَاهُ اللهُ عَنَّا خَيْرَ الْجَزَاءِ نكروا کے معنی ہیں شکل بدل ڈالو تا پہنچانا نہ جاسکے۔اس تعلق میں آیت نقل کی جاچکی ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سباء کا تخت لایا گیا تھا یعنی وہ علاقہ فتح ہو گیا تھا مگر خالی کسی قوم کے مفتوح و مغلوب ہونے سے اس کے اندر ہدایت سے متعلق مطلوبہ تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی، اس لئے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملکہ سباء اور اس کی قوم کی ہدایت کی فکر ہوئی جس کے لئے انہوں نے ایک تدبیر اختیار کی، اسے دعوت دی اور ایک ایسا شیش محل تیار کروایا جس کی گزرگاہ میں نیچے آبدار کانچ کا فرش بچھوایا اور اس کے نیچے پانی چھوڑا گیا اور وہ ایسا شفاف تھا کہ پانی اور کانچ کی سلوں کے ریختہ فرش کے درمیان ظاہر نظر سے تمیز نہیں ہو سکتی تھی جیسا کہ لفظ الطرح کی تشریح میں بیان کیا گیا ہے کہ اس لفظ کے ایک معنی پانی کا حوض بھی ہے جس پر شیشے کی سلیں بچھائی گئی ہوں۔یہ معنی مجاہد سے مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۱) وَأُوتِينَا الْعِلْمَ يَقُولُهُ سُلَيْمَان: اور ہمیں علم دیا گیا تھا۔اس سے یہ آیات مراد ہیں: فَلَمَّا جَاءَتْ قِيلَ ا هكَذَا عَرْشُكِ قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللهِ ۖ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَفِرِينَ ) (النمل: ۴۳ (۴۴) جب وہ آئی تو اسے کہا گیا کیا تیر ا تخت ایسا ہی ہے۔اس نے کہا: معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ جیسے یہ وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم حاصل ہو چکا تھا اور ہم تیرے فرمانبردار ہو گئے تھے۔اور اس (سلیمان علیہ السلام) نے ملکہ کو اللہ تعالیٰ کے ماسوا معبودوں کی عبادت کرنے سے روکا۔وہ یقیناً کافر قوم میں سے تھی۔پہلی آیت میں فقرہ اُوتِينَا العِلم کی نسبت دو قول ہیں ایک تو مجاہد سے مروی ہے کہ یہ بات حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہی تھی جنہیں فی الواقع علم دیا گیا تھا۔چنانچہ گانہ ھو کے بعد (حرف ج) وقفہ جواز ہے یعنی جائز ہے کہ اسے سیاق سے علیحدہ سمجھا جائے اور دوسرا قول واحدی کا ہے کہ یہ قول بلقیس ملکہ سباء کا ہے کہ ہمیں علم تھا کہ غلبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہو گا اور اس نے کہا کہ كُنَّا مُسْلِمِینَ کہ ہم سلیمان علیہ السلام کی نبوت کی صحت کے قائل تھے۔امام ابن حجر دونوں قول ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ وَالْأَولُ هُوَ الْمُعْتَمَدُ یعنی مجاہد کا قول ہی قابل اعتماد ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۱) اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمین مراد صرف ظاہری اطاعت ہے جیسا کہ اس کی شرح لفظ طائعین سے کی گئی ہے۔ملکہ سباء اس وقت تک بطور