صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 142
صحيح البخاری جلد ۱۴۲ ۶۵ کتاب التفسير / النمل الْقَبَسُ مَا اقْتَبَسْتَ مِنْهُ النّار : یعنی القَبَس کے معنی ہیں جس سے تو آگ حاصل کرے۔جیسا کہ فرماتا ہے: وَ إِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ إِذْ قَالَ مُوسى لِأَهْلِهِ إِنِّي أَنَسْتُ نَارًا سَاتِيْكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ اتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ (النمل: ۸،۷) اور تو یقینا حکیم علیم کی طرف سے یہ قرآن دیا جا رہا ہے۔یاد کر جب موسیٰ نے اپنے اہل سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی اور محسوس کی ہے۔میں عنقریب تمہارے پاس اس سے ایک عظیم الشان خبر لاؤں گا یا تمہارے پاس چمکتا ہوا روشن انگارہ لاؤں گا تا کہ تم اس سے آگ حاصل کرو۔سورۃ النمل کے شروع ہی میں مومنوں کے لئے ایک بشارت کا ذکر ہے اور یہ سورۃ آیات القرآن و کتاب مبین قرار دی گئی ہے۔یعنی قرآن کے بڑے بڑے نشان اس میں مذکور ہیں اور یہ ایک ایسی کتاب ہے جو کھول کر بیان کرنے والی ہے اور ان آیات کا نزول حکیم علیم خدا کی طرف سے بتا کر فرماتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا آغاز یوں ہوا تھا کہ انہوں نے ایک آگ دیکھی۔فَلَمَّا جَاءَ هَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا وَسُبُحْنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) (النمل: (۹) جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اس آگ کے پاس آئے تو وہ پکارے گئے وہ جو اس آگ میں ہے برکت دیا گیا ہے ایسا ہی وہ لوگ جو اس کے ارد گرد ہیں اور پاک ذات ہے وہ اللہ جو رب العالمین ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ وہ ظاہری آگ نہ تھی بلکہ الہی آتش محبت بذریعہ مکاشفہ آگ کی شکل میں دکھائی گئی۔تفسیر صغیر میں ان آیات کی یہ شرح بیان کی گئی ہے کہ اگر یہ ظاہری آگ مراد ہوتی تو اس کی ر حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ نہ فرماتے کہ میں تمہارے لئے ایک عظیم الشان خبر لاؤں گا۔یعنی وحی نبوت کے لئے میں منتخب کیا جانے والا ہوں اور یہ کشفی نظارہ میری ذات ہی کے لئے مخصوص نہیں بلکہ ایک ایسا چمکتا ہوا روشن انگارہ ہے جس سے تم سب نور و حرارت حاصل کرو گے۔سارا سیاق کلام ہی اس تشریح کی تائید کرتا ہے۔آنحضرت ' صلی اللہ تم نے بھی غار حرا میں جو نظارہ دیکھا تھا آپ نے اس کی خبر سب سے پہلے اپنی بیوی حضرت خدیجہ کو دی۔نے (تفسیر صغیر بیان فرمودہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی، تفسیر سورۃ النمل حاشیه زیر آیت اذْ قَالَ مُوسى لِأَهْلِة۔۔آتش محبت الہی ہی درحقیقت ایسی آگ ہے جو لا محالہ وحی شریعت کی مقتضی ہوتی ہے۔جبکہ قوم کی اصلاح کے لئے دل میں آگ نہ لگی ہو اور جب تک خدا تعالیٰ سے محبت میں انسان کھویا نہ جائے وہ عظیم الشان مہم کے لئے نہیں چنا جاتا۔ابو عبیدہ نے قبس کے معنی شعلہ نار کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۱) اور اس کا مفہوم وہی درست ہے جو سیاق و سباق آیت سے تصدیق پائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر چسپاں ہو اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ سورۂ نمل کی یہ آیات بقرى لِلْمُؤْمِنين مومنوں کے لئے بہت بڑی بشارت قرار دی گئی ہیں۔بھلا ظاہری آگ کے سینکنے میں کونسی بشارت ہے۔انوار نبوت کی زندگی بخش آتش محبت ہی ہے جو مردہ قوم کے دلوں میں جب سرایت کرتی ہے تو وہ زندہ ہو جاتی ہے جیسا کہ قوم عرب جو مردہ تھی اور بانجھ کہلاتی تھی وہ فی الواقع زندہ ہوئی۔سورۃ النمل کی آیات کا یہ پس منظر یاد رکھا جائے۔