صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 141
صحيح البخاری جلد ۱۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / النمل سے کہا کہ کون اس کا عجیب و غریب تخت لائے گا۔ اس سے ان کی مراد صرف تخت ہی لانا نہیں تھا بلکہ اس حکومت کو فتح کرنا مقصود تھا تا کہ سباء کے لوگوں کو دین حق کی دعوت دی جاسکے۔ فرماتا ہے : قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا اتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ وَ إِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ، قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِّنَ ا عِنْدَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَبِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ (النمل: ۴۰ (۴۱) پیشتر اس کے کہ ان آیات کا ترجمہ کیا جائے۔ بعض الفاظ کی تشریح ضروری معلوم ہوتی ہے۔ عفریت کا لفظ نہایت قوی شخص اور شیر ببر پر اطلاق پاتا ہے۔ کہتے ہیں: رجل عِفْرِیت اور أَسَدٌ عِفْرِيت آئی شَدِيدٌ۔ اسی طرح عِفْرِیت کے معنی وہ شخص جو نہایت ہوشیار اور اپنے کام کو نافذ کرنے والا ہو۔ اقرب الموارد میں لکھا ہے : وَيُقَالُ الْعِفْرِيْتُ مِنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ وَالشَّيَاطِينِ: الْفَائِقُ الْمَبَالِغُ الرئيس (اقرب الموارد - عفر) عربی میں الإِنْس سے مراد متمدن لوگ ہیں اور اس کے مقابل لفظ الجن سے غیر متمدن، وحشی، پہاڑی یا بدوی قوم مراد ہے اور الشَّيَاطِین سے سرکش، ظالم اور جابر لوگ۔ تاریخ قدیم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غیر متمدن اور سرکش قو میں کچھ تو حضرت داؤد علیہ السلام کے عہد میں اور باقی حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں سر ہو چکی تھیں اور انہوں نے اطاعت کرلی تھی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ان مفتوح قوموں کے سرداروں کا اجتماع رہتا تھا۔ آپ نے ان سے کہا کہ ملکہ سباء نے ابھی تک اطاعت نہیں کی۔ اس پر کون چڑھائی کرے گا۔ طرف کے معنی ہیں جاسوس اور شریف نوجوان۔ (اقرب الموارد - طرف) اب آیات کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ ایک بدوی قوم کے بہت بڑے سردار نے سلیمان کے مطالبہ پر اپنے آپ کو پیش کیا اور کہا کہ میں آپ کے پاس اس کا عرش لے آؤں گا پیشتر اس کے کہ آپ اپنے اس مقام سے کوچ کریں اور یقیناً میں اس امر پر نہایت ہی قدرت رکھتا ہوں اور امین ہوں یعنی مفوضہ فرض کو پوری دیانت داری سے ادا کروں گا۔ اس شخص نے جسے کتاب الہی کا علم تھا (یعنی بنی اسرائیل میں سے تھا) کہا: میں اس تخت کو آپ کے پاس لاؤں گا پیشتر اس کے کہ آپ کے جاسوس ( اس ملک کی خبر لے کر ) آپ کے پاس واپس لوٹیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول جو تاریخ قدیم اور تورات وانجیل سے خوب واقف تھے اور بلاشبہ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے وہ اس آیت کا یہی ترجمہ کیا کرتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تفسیر صغیر کے حاشیے میں اس آیت کے تعلق میں لکھا ہے چونکہ ملک یہود کا تھا اس لیے عبرانی عالم کو یقین تھا کہ یہودی میرے لئے بہت جلد کام کریں گے اس لئے اس نے بدوی قوم کے سردار سے پہلے عرش لانے کا وعدہ کیا یعنی وہ اس ملک کو بہت جلد فتح کرلے گا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے طرف کے معنی آنکھ جھپکنے کے کئے ہیں اور بتایا ہے کہ بہت جلد میں اس مہم بتایا کو سر کر لوں گا۔ مختلف زبانوں میں آنکھ جھپکنے کا محاورہ جلدی پر دلالت کرتا ہے اور اسے لفظی نہیں قرار دیا جاتا۔ یہاں بھی انہی معنوں میں یہ محاورہ استعمال ہوا ہے۔ ( تفسیر صغیر بیان فرمودہ حضرت خلیفة المسیح الثانی، سورة النمل حاشیه زیر آیت قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ الْجِن ۔۔۔