صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 140 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 140

۱۴۰ 17 صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / النمل ردِفَ بمعنی افتَرَب کہ قریب ہوا۔اس سے یہ آیات مراد ہیں: وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُم صدِقِينَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ وَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ) (النمل: ۷۲ تا ۷۴) اور وہ کہتے ہیں ( مجرموں کے عذاب کا ) یہ وعدہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو۔تو کہہ کہ ہو سکتا ہے کہ جس کو تم جلدی طلب کر رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے پیچھے پیچھے قریب چلا آرہا ہو اور یقینا تیر ارب لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر ناشکر گزار ہیں۔جَامِدَةً بمعنی قائِمَةً۔اس سے یہ آیت مراد ہے: وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَ هِيَ تَمْرُ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللهِ الَّذِى اَلْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل: ۸۹) اور تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے ایسی حالت میں کہ تو سمجھتا ہے کہ وہ ٹھہرے ہوئے ہیں بحالیکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہیں۔یہ اس اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے۔یقینا وہ جو فعل تم کر رہے ہو اس سے خوب واقف ہے۔أوزعني اجعليني: مجھے بنا، مجھے صحیح طور پر توفیق دے۔پہلا مفہوم حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔دوسرا مفہوم ابو عبیدہ سے اور انہوں نے اور غنی کے معنی الھنی بھی کئے ہیں یعنی مجھے الہام کر۔فراء ادیب نے بھی اس مفہوم کی پورے طور پر تائید کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۱) اس سے یہ آیت مراد ہے: فتبسم ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَى وَ عَلَى وَالِدَيَّ وَ أَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَ ادْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ ) (النمل:۲۰) سلیمان نملہ قوم کے ایک شخص کی بات معلوم کر کے کھلکھلا کر ہنسے ، خوش ہوئے اور کہا: اے میرے رب! مجھے پورے طور پر یح رنگ میں توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والد پر کی ہے اور ایسا نیک عمل بجا لاؤں جسے تو پسند فرمائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل کر۔اس دعا سے جیسا کہ ابھی بتایا جائے گا، معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان اور ان کے باپ حضرت داؤڈ اپنی بعثت کی غرض میں پورے طور پر کامیاب ہوئے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ نَكِّرُوا : یعنی غیروا، اس کی شکل تبدیل کر دو۔اس سے یہ آیت مراد ہے: قَالَ نَكُرُوا لَهَا عَرْشَهَا تنظرُ اتَهْتَدِى اَمَ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ (النمل: (۴۲) (سلیمان نے ) کہا اس کے تخت کی شکل و صورت تبدیل کر دو تا کہ ہم دیکھیں کہ آیا وہ ہدایت پاتی ہے یا انہی لوگوں میں سے رہے گی جو ہدایت نہیں پاتے۔اس سے مراد ملکہ سباء کا تخت ہے۔جس پر چڑھائی کرنے کا حکم آپ نے ایک بہت بڑے سردار کو ارشاد کیا جس کا ذکر ما قبل کی آیات میں ہے۔سباء کا علاقہ جزیرہ عرب کے جنوب غربی حصے یمن میں واقع تھا۔اس حکومت کا ذکر کتب عہد قدیم اور عرب، یونانی اور رومانی مؤلفات میں ہے۔اس حکومت کا تمدن بہت ترقی یافتہ تھا اور یہاں کے باشندے سونے چاندی اور قیمتی پتھروں کی تجارت کرتے تھے۔عرب لوگ ملکہ سباء کا نام بلقیس بناتے ہیں جو حضرت سلیمان کے حضور فرمانبردار ہو کر آئی۔اس سے ماقبل کی آیات میں جب حضرت سلیمان نے اپنے درباریوں