صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 140
صحیح البخاری جلد ۱۴۰ ۶۵ - کتاب التفسير / النمل ردِفَ بمعنی اقْتَرَبَ کہ قریب ہوا۔ اس سے یہ آیات مراد ہیں: وَ يَقُولُونَ مَتَى هُذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صدِقِينَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِي تَسْتَعْجِلُونَ ، وَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ اكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ (النمل: ۷۲ تا ۷۴) اور وہ کہتے ہیں ( مجرموں کے عذاب کا یہ وعدہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو۔ تو کہہ کہ ہو سکتا ہے کہ جس کو تم جلدی طلب کر رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے پیچھے پیچھے قریب چلا آرہا ہو اور یقینا تیر ارب لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر نا شکر گزار ہیں۔ جَامِدَةً بمعنی قَائِمَةً۔ اس سے یہ آیت مراد ہے : وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَ هِيَ تَمْرُ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل: (۸۹) اور تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے ایسی حالت میں کہ تو سمجھتا ہے کہ وہ ٹھہرے ہوئے ہیں بحالیکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہیں۔ یہ اس اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے۔ یقینا وہ جو فعل تم کر رہے ہو اس سے خوب واقف ہے۔ اوْزِعْنِي اجْعَلْنِی : مجھے بنا، مجھے صحیح طور پر توفیق دے۔ پہلا مفہوم حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ دوسرا مفہوم ابو عبیدہ سے اور انہوں نے اَوْزِعْنِی کے معنی الھنی بھی کئے ہیں یعنی مجھے الہام کر۔ فراء ادیب نے بھی اس مفہوم کی پورے طور پر تائید کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۱) اس سے یہ آیت مراد ہے: فتبسم ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَى وَ عَلَى وَالِدَيَّ وَ أَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَ ادْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ (النمل: ۲۰) سلیمان عملہ قوم کے ایک شخص کی بات معلوم کر کے کھا کھانا لکھلا کہ کر ہنسے، خوش ش : ہوئے اور کہا: اے میرے رب رب ! ! مجھے پورے طور پر صحیح رنگ میں تو توفیق ادے دے کہ کہ : میں تیری نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والد پر کی ہے اور ایسا نیک عمل بجا لاؤں جسے تو پسند فرمائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل کر۔ اس دعا سے جیسا کہ ابھی بتایا جائے گا، معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان اور ان کے باپ حضرت داؤد اپنی بعثت کی غرض میں پورے طور پر کامیاب ہوئے۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ نَكِرُوا : اهِد نَكِرُوا : یعنی غَيْرُوا ، اس کی شکل تبدیل کر دو۔ اس سے یہ آیت مراد ہے : قَالَ نَكِرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرُ أَتَهْتَدِى أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ (النمل: (۴۲) (سلیمان نے) کہا اس کے تخت کی شکل و صورت تبدیل کر دو تا کہ ہم دیکھیں کہ آیا وہ ہدایت پاتی ہے یا انہی لوگوں میں سے رہے گی جو ہدایت نہیں پاتے۔ اس سے مراد ملکہ سباء کا تخت ہے۔ جس پر چڑھائی کرنے کا حکم آپ نے ایک بہت بڑے سردار کو ارشاد کیا جس کا ذکر ما قبل کی آیات میں ہے۔ سباء کا علاقہ جزیرہ عرب کے جنوب غربی حصے یمن میں واقع تھا۔ اس حکومت کا ذکر كتب عہد قدیم اور عرب، یونانی اور رومانی مؤلفات میں ہے۔ اس حکومت کا تمدن بہت ترقی یافتہ تھا اور یہاں کے باشندے سونے چاندی اور قیمتی پتھروں کی تجارت کرتے تھے۔ عرب لوگ ملکہ سباء کا نام بلقیس : میں بتاتے ہیں جو حضرت سلیمان کے حضور فرمانبردار ہو کر آئی۔ اس سے ماقبل کی آیات میں جب حضرت سلیمان نے اپنے درباریوں