صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 5 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 5

صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / كهيعص - حضرت ابن عباس کی طرف جو روایتیں اس بارہ میں منسوب کی گئی ہیں وہ بلحاظ سند اعلیٰ پائے کی نہیں ورنہ امام بخاریؒ ضرور اُن کا ذکر فرماتے جیسا کہ اس سورۃ کے ابتداء ہی میں حضرت ابن عباس کے ایک قول کا حوالہ دیا ہے جو اُن کے نزدیک مستند ہے اور یہ حوالہ اسیعُ بِهِمْ وَ ابْصِرُ سے متعلق ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أَسْمِعْ بِهِمْ وَ ابْصِرُ (مریم: ۳۹) اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ آج نہیں سنتے اور نہ دیکھتے ہیں ، في ضَلالٍ مُبِينٍ (مریم: ۳۹) ایک کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔لیکن ایک وقت آئے گا کہ کفار خوب سنیں گے اور دیکھیں گے۔ان کے یہ الفاظ ہیں : الْكُفَّارُ يَوْمَئِذٍ أَسْمَعُ شَيْءٍ وَأَبْصَرُهُ۔مذکورہ بالا آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب الہی کی شدت سے ان کی شنوائی اور بینائی درست ہو جائے گی اور وہ محسوس کرنے لگیں گے کہ وہ کس قسم کی گمراہی میں ہیں۔اس آیت میں جس مشہید عظیم کی پیشگوئی ہے وہ اسی زمین پر بپا ہونے والی ہے اور یہ مشہد عظیم وہ آتش خیز ہنگامہ ہے جس کی تیاری آج بڑے شدو مد سے ہو رہی ہے: وَ انْذِرُهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُم وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَ إِلَيْنَا يُرْجَعُونَ (مریم: ۴۱،۴۰) اور ان کو اس دن سے خوف ولا جو حسرت کا دن ہے۔جب بات کا فیصلہ ہو جائے گا۔اب تو یہ لوگ غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔یقینا ہم ہی اس زمین کے وارث ہوں گے اور ان لوگوں کے بھی جو اس زمین پر لیتے ہیں اور ہماری طرف ہی ان کا رجوع ہو گا۔ان آیات میں الفاظ اسمعُ وَ ابْصِرُ (مریم: (۳۹) وَ يُرْجَعُونَ (مریم: ۴۱) میں ان کے ہدایت پانے کی پیشگوئی مضمر ہے۔حضرت ابن عباس کا مذکورہ بالا قول ابن ابی حاتم نے بسند ابن جریج (عَنْ عَطَاء) موصولاً نقل کیا ہے۔عبد الرزاق نے قتادہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں ان کی شنوائی اور بینائی کو روز قیامت سے وابستہ کیا ہے۔یعنی اس دن ان کا سننا اور دیکھنا انہیں نفع نہ دے گا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۴۲) (عمدۃ القاری جزء۱۹ صفحہ ۵۰) امام بخاری نے یہ روایت قبول نہیں کی اور حضرت ابن عباس کا پہلا قول قبول کیا ہے یعنی الكُفَّارُ يَوْمَئِذٍ أَسْمَعُ شَيْءٍ وَأَبْصَرُهُ وجالی اقوام کی تباہی کا جو عظیم الشان ہنگامہ برپا ہونے والا ہے اس کا تعلق اس زمین سے ہے اور اس کی غرض وغایت در اصل اصلاح ہے محض تباہی نہیں۔خالق اپنی مخلوق پر ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و مہربان ہے۔چنانچہ محولہ بالا آیات کے آخر میں فقرہ الینا يُرْجَعُونَ اسی اصلاح پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف مجبور رجوع کریں گے۔اس تعلق میں یاد رہے کہ آنحضرت صلی کام کے مبارک ناموں میں سے الماجی نام بھی ہے جس میں یہ پیشگوئی مضمر ہے کہ آپ کے ذریعہ سے کفر مٹایا جائے گا اور حاشر بھی ہے یعنی تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا اس محشر کا زمانہ بھی ہے جو دوسرے الفاظ میں مشہد عظیم کے نام سے موسوم ہے۔لاَرْجُمَنَّكَ کے معنی ہیں لَأَشْتُمَنَّكَ یعنی میں تجھے برا بھلا کہوں گا۔یہ معنی ابن ابی حاتم ہی سے مذکورہ بالا سند کے ذریعے نقل کئے گئے ہیں اور حضرت ابن عباس سے الرجم بمعنی الكَلامُ بھی مروی ہیں (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۲) اور اسی طرح اس لفظ کے معنى لأضر بنك بھی نقل کئے گئے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۵۰) پوری آیت یہ ہے: (صحيح البخاری، کتاب المناقب، باب ماجاء فی اسماء رسول الله لا روایت نمبر ۳۵۳۲)