صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 139 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 139

صحيح البخاری جلد مریخ ١٣٩ ۶۵ کتاب التفسير / النمل لفظ الحب سے سورۃ النمل کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے: أَلَّا يَسْجُدُ وَاللَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبُ فِي السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ (النمل : ۲۶) (وہ مصر ہیں کہ) اس اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ تقدیر کو ظاہر کرتا ہے اور جو تم چھپاتے ہو وہ بھی جانتا ہے اور جس کا تم اعلان کرتے ہو وہ بھی اس کے علم میں ہے۔اس سے قبل کی آیت میں قوم سباء اور ان کی ملکہ کے مشرکانہ عقیدے اور سورج پرستی کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام آخر انہیں کو اکب پرستی کے شرک سے روکنے میں کامیاب ہو گئے اور رب عرش عظیم کی طرف انہیں راہنمائی کی۔اس سے قبل کی آیات میں واد النمل کا ذکر ہے جس کی نسبت تفسیر صغیر میں بالتحقیق اس وادی کا جائے وقوع بتایا گیا ہے کہ وہ ساحل سمندر پر یروشلم کے مقابل یا اس کے قریب دمشق سے حجاز کی طرف آنے والے راستے پر واقع ہے اور یہ وادی اسی نام سے مشہور ہے اس جہت کے علاقوں میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ تک عرب اور مدین کے بہت سے قبائل بستے تھے اور ان قبائل میں سے نملہ نام کا ایک بہت بڑا قبیلہ بھی تھا۔(ماخوذ از حاشیہ تفسیر صغیر سورۃ النمل زیر آیت ۱۹) آیت ۲۷ میں فرماتا ہے: اللهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ O اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی بہت بڑی حکومت کا مالک ہے۔اس ذکر سے ظاہر ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنی بعثت کی غرض میں کامیاب ہوئے، ان کا ذکر بطور قصہ و کہانی نہیں بلکہ ان کے ذکر میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے کواکب پرست تو میں بھی ہدایت پائیں گی اور یہ پیشگوئی واقعہ میں ظہور میں آئی اور آئندہ بھی یہ چلے گا۔یہاں تک کہ روئے زمین کی ساری قوموں کا دین توحید قرار پائے گا۔جیسا کہ نہ صرف قرآن مجید کی زیر شرح سورتوں میں بلکہ صحف سابقہ کی پیشگوئیوں میں صراحت کی گئی ہے۔سلسلم لا قبل سے یہ آیت مراد ہے : ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَا تِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِنْهَا اذِلَةً وَهُمْ صَغِرُونَ (النمل: (۳۸) (اے ہدہد ) تو ان کی طرف لوٹ جا ( اور ان سے کہہ دے کہ) میں ایک لشکر کے ساتھ ان پر حملہ آور ہوں گا۔ایسا لشکر کہ اس کے مقابلہ کی انہیں طاقت نہ ہو گی اور میں ان کو (فلسطین سے ) ضرور نکالوں گا۔ایسی حالت میں کہ وہ پسپا ہوں گے اور بادشاہت کی عزت کھو چکے ہوں گے۔لا قبل لھم کا مفہوم ابو عبیدہ سے مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۴۰) يَأْتُونِي مُسلمین سے یہ آیت مراد ہے: قَالَ يَايُّهَا الْمَلُوا أَيْكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ (النمل: ۳۹) (سلیمان نے اپنے درباریوں سے مخاطب ہو کر ) کہا : اے سردارو! تم میں سے کون اس کے تخت کو میرے پاس لے آئے گا پیشر اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آئیں۔مُسْلِمِین کے معنی طَائِعِيْن حضرت ابن عباس سے مروی ہیں اور ابن جریج سے مروی ہے کہ وہ دین توحید کو قبول کرنے والے ہوں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۴۱)