صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 138 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 138

صحیح البخاری جلد الله ٢٧ - سُورَةُ النَّمَل ۶۵ - کتاب التفسير / النمل الْخَب (النمل: (٢٦) مَا خَبَأْتَ۔ لَا الْخَبْ کے معنی ہیں وہ شے جو تو چھپائے۔ لا قبل قِبَلَ (النمل: ۳۸) لا طَاقَةَ الصَّرْحَ سے مراد ہے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ الصرح کا (النمل: ٤٥) كُلُّ مَلَاطِ اتَّخِذَ مِنَ مطلب ہے پلاستر جو کانچ سے بنایا جاوے اور الْقَوَارِيرِ، وَالصَّرْحَ الْقَصْرُ وَجَمَاعَتُهُ الصَّرْحَ کے معنی ہیں محل۔ اور اس کی جمع صُروح صُرُوحٌ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَهَا عَرْشِ ہے۔ اور حضرت ابن عباس نے فرمایا: وَ لَهَا (النمل: ۲۳) سَرِيْرٌ كَرِيمٌ، حُسْنُ عَرْشَ عَظِیم یعنی اس کا ایک ایسا عمدہ تخت تھا الصَّنْعَةِ وَغَلَاءُ الثَّمَنِ۔ {يَأْتُونِي ( جس کی صنعت کاری عجیب تھی اور وہ گراں مُسْلِمِينَ (النمل: ٣٩) طَائِعِيْنَ۔ رَدِفَ قیمت تھا۔ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ: فرمانبردار ہو کر (النمل: ۷۳) اقْتَرَبَ۔ جَامِدَةً میرے پاس آئیں گے ۔ رکوف یعنی قریب آگیا۔ (النمل: ۸۹) قَائِمَةً۔ اَوْزِعْنِي جَامِدَةً کے معنی ہیں ٹھہرے ہوئے۔ آوز غنی (النمل: ٢٠) اجْعَلْنِي۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ یعنی مجھے ایسا بنا۔ اور مجاہد نے کہا: نكروا یعنی اس نكِرُوا (النمل: ٤٢) غَيِّرُوا ۔ وَ الْقَبَسُ کی شکل تبدیل کر دو۔ اور الْقَبَس کے معنی ہیں مَا اقْتَبَسْتَ مِنْهُ النَّارَ وَأُوتِينَا جس سے تو آگ حاصل کرے۔ وَأُوتِينَا الْعِلْمَ العلم (النمل: ٤٣) يَقُولُهُ سُلَيْمَانُ اور ہمیں علم دیا گیا ہے، یہ قول حضرت سلیمان الصرح (النمل: ٤٥) بِرْكَةُ مَاءٍ ضَرَبَ (علیہ السلام) کا ہے۔ الصرح کے معنی ہیں پانی کا عَلَيْهَا سُلَيْمَانُ قَوَارِيْرَ أَلْبَسَهَا إِيَّاهُ۔ تالاب۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس (پانی) پر شیشے کی سلیں ایسی عمدہ تدبیر سے لگوا دی تھیں کہ دیکھنے والے کو یہی معلوم ہوتا تھا کہ آبدار پانی ہے۔ ا یہ لفظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاء فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۶۳۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔