صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 137
صحيح البخاری جلد ۶۵ کتاب التفسير الشعراء اللَّهِ شَيْئًا۔تَابَعَهُ أَصْبَغُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ اور ابوالیمان کے سوا اصبغ (بن فرج) نے عَنْ يُونُسَ عَن ابْنِ شِهَابٍ۔أطرافه: ٣٥٢٧، ٢٧٥٣- (عبد اللہ بن وہب سے ، انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے یہی حدیث روایت کی۔تشريح : وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِين : باب ۲ کی معنونہ آیت کا سیاق و سباق پورا یہ ہے: فلا تَدْعُ مَعَ اللهِ الهَا أَخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذِّبِينَ وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنْ عَصَوكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِى مِمَّا تَعْمَلُونَ وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِیمِ پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار ، ورنہ تو مبتلائے عذاب لوگوں میں سے ہو جائے گا۔اور تو (سب اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔اور جو تیرے پاس مومن ہو کر آئیں اُن کے لیے محبت کے بازو جھکا دے۔پھر اگر کسی وقت وہ تیری نافرمانی کر بیٹھیں، تو کہہ دے میں تمہارے عمل سے بیزار ہوں۔اور غالب (اور) بار بار رحم کرنے والی ہستی پر تو کل کر۔روایات زیر باب سے ظاہر ہے کہ انذار کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا ارشاد کی تعمیل میں سب سے پہلے اپنے اعزہ واقرباء کو مخاطب کیا۔باب کی پہلی روایت میں ہے کہ آپ کا ایک چا عبد العزیٰ ( اس کے معنی عزی دیوی کا پرستار ہیں) جس کی کنیت ابولہب ہے، اس نے آپ کی دعوت کو ٹھکرایا اور بڑی گستاخی سے پیش آیا۔سورۃ اللھب کی تاریخ نزول کے بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ وہ ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے۔یہ شخص جو آپ کے دادا عبد المطلب کا بیٹا تھا اور اس کی بیوی اتم جمیل ابوسفیان کی بہن تھی، دونوں نے آپ کے خلاف اشتعال انگیزی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔جس کی وجہ سے ابو لہب بانی اشتعال انگیزی کے نام سے اس سورۃ میں ملقب کیا گیا ہے اور اس کی بیوی کو حمالة الحطب ایندھن اٹھانے والی کہا گیا ہے۔اس شخص کی دینی و دنیوی کوششوں کے رائیگاں جانے کی یہ پیشگوئی کی گئی ہے۔غزوہ بدر میں جب کفار قریش کو شکست فاش ہوئی اور اس کی اطلاع عبد العزیٰ کو ملی تو اس کو شدید صدمہ ہوا اور اس صدمے کی وجہ سے سات دن نہیں گزرنے پائے تھے کہ وہ راہی ملک عدم ہو گیا اور اس کی ساری کوششیں خاک میں مل گئیں۔یہ مفہوم ہے سورۃ کے موقع نزول کا۔لیکن سورتوں کی جو ترتیب وحی الہی کے ذریعہ سے قائم ہوئی ہے اس کے لحاظ سے اس سورۃ کا مفہوم مذکورہ بالا مفہوم سے وسیع تر ہے جو اپنے موقع پر بیان ہو گا۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔