صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 136 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 136

صحيح البخاری جلد ١٣ -۲۵ - کتاب التفسير / الشعراء أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا فَنَزَلَتْ تبت یدا ابی دن تمہیں گھانا ہی رہے، کیا اس غرض کے لئے لَهَبٍ وتَب مَا أَغْنى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا تم نے ہمیں اکٹھا کیا ہے۔اس لئے یہ آیت نازل كسب (اللهب : ٢، ٣) ہوئی کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوں اور وہ خود بھی تباہ ہو ، نہ اس کا مال اسے کاری آیا نہ وہ جو اس نے کمایا۔أطرافه ،۱۳۹٤ ، ٣٥۲۵، ۳٥٢٦، ٤۸۰۱، ٤۹۷۱، ٤٩٧٢ ، ٤٩٧٣۔٤٧٧١ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۴۷۷۱ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ کی کہا: سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ نے کہا: جب اللہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ کا ارشاد نازل أَنْزَلَ اللهُ وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ فرمایا تو رسول اللہ صلی ال نیم کھڑے ہوئے اور فرمایا: الأَقْرَبِينَ (الشعراء: ۲۱۵) قَالَ يَا اے قریش کے لوگو! یا کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا: مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا الله سے اپنی جانوں کا سودا کر لو۔اللہ کے حضور اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔اے بنی اللهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا أُغْنِي عبد مناف! اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ نہیں آؤں گا۔اے عباس بن عبد المطلب! اللہ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔شَيْئًا، وَيَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُوْلِ اللهِ اے صفیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ! صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُغْنِي عَنْكِ میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آؤں مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ گا۔اور اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ! صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِيْنِي مَا تم جو چاہو میرے مال میں سے لے لو مگر اللہ شِئْتِ مِنْ مَّالِي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔