صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 135
صحيح البخاری جلد ۱۳۵ ۶۵ کتاب التفسير الشعراء بَاب ٢ : وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: ٢١٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور تو سب سے پہلے ) اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ (الشعراء: ٢١٦) أَلِنْ اپنے بازو کو جھکا یعنی نرمی سے پیش آ۔جانبك۔صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ٤٧٧٠ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۴۷۷۰: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان غِيَاتٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْن سے بیان کیا کہ عمرو بن مرہ نے مجھے بتایا۔انہوں جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرُ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: ٢١٥) کہا: جب یہ آیت وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ نازل ہوئی تو نبی ملیالی تم صفا پہاڑی پر چڑھے اور بلند آواز سے پکارنے لگے: اے بنی فہر ! اے بنی عَلَى الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي يَا بَنِي عدی اسی طرح آپ نے قریش کے چند فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِي لِبُطُونِ قُرَيْشٍ خاندانوں کا نام لیا اور وہ جمع ہو گئے، جو آدمی خود حَتَّى اجْتَمَعُوا فَجَعَلَ الرَّجُلُ إِذَا لَمْ نہ آسکتا تھا وہ اپنی جگہ دوسرا آدمی بھیج دیتا کہ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرُجَ أَرْسَلَ رَسُولًا دیکھیں کیا معاملہ ہے۔ابولہب اور قریش آئے۔لِيَنْظُرَ مَا هُوَ فَجَاءَ أَبُو لَهَبٍ آپ نے فرمایا: بھلا بتلاؤ تو سہی اگر میں تم کو یہ وَقُرَيْسٌ فَقَالَ أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ خبر دوں کہ کچھ سوار اس وادی میں ہیں جو تم پر أَنَّ خَيْلًا بِالْوَادِي تُرِيدُ أَنْ تُغِيْرَ چھاپہ مارنا چاہتے ہیں کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ عَلَيْكُمْ أَكُنْتُمْ مُصَدِقِيَّ قَالُوا نَعَمْ مَا انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ کی نسبت ہمارا تجربہ جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا قَالَ فَإِنِّي یہی ہے کہ آپ راستباز ہیں۔آپ نے فرمایا: تو نَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ پھر میں ایک سخت عذاب آنے سے قبل تمہیں فَقَالَ أَبُوْ لَهَبٍ تَبَّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ آگاہ کرتا ہوں۔ابو لہب نے یہ سن کر کہا: سارا