صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 134
صحيح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير الشعراء کا حوالہ دے کر یہودیوں اور عیسائیوں کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ آپ کی دعوت حقہ کو قبول کیا جائے۔ان میں سے جنہوں نے قبول کیا وہ چاندی کی طرح پاک صاف کئے گئے اور جنہوں نے قبول نہ کرنا تھا نہ کیا اور اب تک وہ تزکیہ نفس سے محروم ہیں۔لیکن اب خداوند تعالیٰ اس کی سچائی زور آور آسمانی حملوں سے ظاہر کرنے والا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بتایا گیا تھا کہ جو کلام اس پر نازل ہو گا وہ خداوند کے نام پر جو کچھ اسے کہا جائے گا وہ سب لوگوں کو سنائے گا۔(استثناء باب ۱۸:۱۸) قرآن مجید کی ہر چھوٹی سے چھوٹی سورۃ کا عنوان بھی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سے شروع ہوتا ہے۔آپ کی نسبت بتایا گیا تھا کہ وہ قتل نہیں کیا جائے گا۔چنانچہ آپ سے بذریعہ وحی الہی وعدہ ہوا : وَاللَّهُ يَعْصِكَ مِنَ النَّاسِ (المائده: (۶۸) اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔چنانچہ آپ کے دشمنوں نے ہر چند آپ کے قتل کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور آپ نے الہی فرمان کے مطابق تبلیغ کا حق ادا کیا۔آپ کی نسبت بتایا گیا تھا کہ وہ نبی دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا اور اس کے داہنے ہاتھ آتشی شریعت ان کے لئے ہوگی (جو گناہوں کو جلائے گی اور چاندی کی طرح روحوں کو کندن کرے گی) چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آپ کے ذریعہ سے تطہیر نفس اور تزکیہ نفس کا معجز نما نمونہ دکھایا گیا جس کے معترف مخالف بھی ہیں اور کہا گیا تھا کہ خداوند کوہ فاران سے اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو گا۔(کتاب مقدس مطبوعہ ۱۹۲۲ء ، استثناء باب ۲:۳۳) چنانچہ وادی مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کا نام فاران ہے۔اور سچ مچ فتح مکہ کے روز دس ہزار قدوسی آپ کے ساتھ تھے اور مکہ کی وادیاں اور اس کے پہاڑ اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھے۔(دیکھئے کتاب المغازی روایت نمبر ۴۲۷۶) یسعیاہ نبی علیہ السلام نے عربستان کو بانجھ قرار دے کر اس کی نسبت پیشگوئی کی کہ وہ جو جنتی نہ تھی اب بنے گی اور شوہر والی کی اولاد سے اس کی اولاد زیادہ ہوگی اور وہ بہت برومند ابدی حکمت اور قوموں کی وارث ٹھہرے گی۔(یسعیاہ باب ۵۴) یہ پیشگوئی تمثیلی اسلوب میں ہے اور اس میں اس امر کی صراحت ہے۔تیرا خالق تیرا شوہر ہے۔اس کا نام رب الافواج ہے اور تیر ا فدیہ دینے والا اسرائیل کا قدوس ہے۔وہ تمام روئے زمین کا خدا کہلائے گا۔“ یعنی تو حید آخر ساری قوموں کا دین ہو گا۔(یسعیاہ باب ۵۴ (۵)