صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 133
صحيح البخاری جلد ۶۵ کتاب التفسير الشعراء پر غالب آئے گا۔“ (یسعیاہ باب ۴۲: ۱۰ تا ۱۳) میں ان کو ان راستوں پر جن سے وہ آگاہ نہیں لے چلوں گا۔میں ان کے آگے تاریکی کو روشنی اور اونچی نیچی جگہوں کو ہموار کر دوں گا۔میں ان سے یہ سلوک کروں گا اور ان کو ترک نہ کروں گا۔جو کھو دی ہوئی مورتوں پر بھروسا کرتے اور ڈھالے ہوئے بتوں سے کہتے ہیں تم ہمارے معبود ہو وہ پیچھے ہٹیں گے اور بہت شرمندہ ہوں گے۔“ (یسعیاہ باب ۴۲: ۱۷،۱۶) اس پیشگوئی کا ایک ایک فقرہ آنحضرت صلی اللہ وسلم کی ذات مبارک پر چسپاں ہوتا ہے۔یہ بیابان کی بستیاں اور قیدار کے آباد گاؤں اور سلع پہاڑ کے بسنے والے اور نیا گیت گانے والے اور خدا کی حمد کرنے والے ثنا خواں سوائے قریش مکہ اور انصار مدینہ کے عرب لوگوں کے سوا اور کون ہو سکتے ہیں۔عہد قدیم کے انبیاء میں سے ملا کی نبی بھی اس عہد کے رسول کی پیشگوئی کرتے اور بنی اسرائیل سے کہتے ہیں: ” تم نے اپنی باتوں سے خداوند کو بیزار کر دیا تو بھی تم کہتے ہو کس بات میں ہم نے اسے بیزار کیا؟ اسی میں جو کہتے ہو کہ ہر شخص جو برائی کرتا ہے خداوند کی نظر میں نیک ہے اور وہ اس سے خوش ہے اور یہ کہ عدل کا خدا کہاں ہے ؟“ (ملا کی باب ۲: ۱۷) ”دیکھو میں اپنے رسول کو بھیجوں گا اور وہ میرے آگے راہ درست کرے گا اور خداوند جس کے تم طالب ہو ، ناگہان اپنی ہیکل میں آموجود ہو گا۔ہاں عہد کا رسول جس کے تم آرزو مند ہو، آئے گا۔رب الا فواج فرماتا ہے۔پر اُس کے آنے کے دن کی کس میں تاب ہے ؟ اور جب اس کا ظہور ہو گا تو کون کھڑا رہ سکے گا؟ کیونکہ وہ سنار کی آگ اور دھوبی کے صابون کی مانند ہے۔اور وہ چاندی کو تانے اور پاک صاف کرنے والے کی مانند بیٹھے گا اور بنی لاوی کو سونے اور چاندی کی مانند پاک صاف کرے گا تاکہ وہ راستبازی سے خداوند کے حضور ہدئے گذرا نہیں۔“ (ملا کی باب ۳ : ۱تا۳) إنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ سے متعلق مضمون نہایت ہی اہمیت رکھتا اور تفصیل چاہتا ہے۔اس کے لئے دیکھئے معركة الآراء كتاب " فصل الخطاب لمقدمة اهل الكتاب تصنیف حضرت مولوی نور الدین خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ ، حصہ دوم۔قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء کی عہد کے کامل نبی برحق کی مذکورہ علامتوں