صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 132
صحيح البخاری جلد ١٣٢ ۶۵ کتاب التفسير الشعراء سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔“ (یوحنا باب ۱۶: ۱۲ تا ۱۴) عربی کی انجیل میں فقرہ سَيُمَجِدُنِی ہے۔(یوحنا باب ۱۴:۱۶) یعنی میری بزرگی قائم کرے گا۔چنانچہ یہود اور نصاریٰ اسے مصلوب سمجھ کر یقین کئے بیٹھے ہیں کہ وہ لعنتی موت مرا لیکن قرآن مجید میں اس کی نفی کی گئی ہے۔فرمايا: وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ( النساء: ۱۵۸) نہ قتل کیا اور نہ صلیب دیا اور حضرت مسیح کا پاکیزہ الفاظ میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔خود پولوس کو جس نے عقیدہ توحید کو بگاڑا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم میں بہت سارا رد و بدل کر کے اسے مسخ کر دیا، یہ اقرار کرنا پڑا کہ ”ہمارا علم ناقص ہے اور ہماری نبوت نا تمام۔لیکن جب کامل آئے گا تو نا قص جانتا رہے گا۔“ (کرنتھیوں اول باب ۱۳: ۱۰،۹) یہ چند حوالے عہد جدید کے صحیفوں میں سے دیئے جاتے ہیں لیکن عہد قدیم کے صحیفوں میں بھی عہد والے کامل رسول کے مبعوث ہونے کی پیشگوئیاں اب تک موجود ہیں۔یسعیاہ نبی فرماتے ہیں: ”دیکھو میر اخادم جس کو میں سنبھالتا ہوں میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے۔میں نے اپنی روح اس پر ڈالی۔وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔وہ نہ چلائے گا اور نہ شور کرے گا۔اور نہ بازاروں میں اس کی آواز سنائی دے گی۔وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائے گا۔وہ راستی سے عدالت کرے گا۔وہ ماندہ نہ ہو گا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرلے۔جزیرے اس کی شریعت کا انتظار کریں گے۔“ (یسعیاہ باب ۴۲: اتا۴) ”اے سمندر پر گزرنے والو اور اس میں بسنے والو، اے جزیر و اور ان کے باشند و خداوند کے لئے نیا گیت گاؤ۔زمین پر سر تا سر اسی کی ستائش کرو۔بیابان اور اس کی بستیاں۔قیدار کے آباد گاؤں اپنی آواز بلند کریں۔سلع کے بسنے والے گیت گائیں۔پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں۔وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں اور جزیروں میں اس کی شنا خوانی کریں۔خداوند بہادر کی مانند نکلے گا۔وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت دکھائے گا۔وہ نعرہ مارے گا۔ہاں وہ للکارے گا۔وہ اپنے دشمنوں