صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 131
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير الشعراء إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے ملیں گے پھر يُبْعَثُونَ (الشعراء: ۸۸) فَيَقُولُ الله کہیں گے: اے میرے رب ! تو نے مجھ سے وعدہ إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِيْنَ کیا تھا کہ تو مجھے اس روز رسوا نہیں کرے گا جب لوگ زندہ اٹھائے جائیں گے۔اللہ فرمائے گا: میں أطرافه : -٣٣٥، ٤٧٦٨۰: نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے۔تشریح: وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ : انبیاء بی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے بھائیوں (بنی اسماعیل) کے درمیان سے اپنی مانند ایک نبئی شارع کے برپا ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔خداوند نے ان سے فرمایا کہ میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں اُن کا حساب اس سے لوں گا۔لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔“ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۰) پیشگوئی بنی اسرائیل میں اتنی مشہور تھی کہ یہ مبعوث ہونے والا موعود مثیل موسیٰ اور صاحب شریعت رسول وہ نبی، عہد کا رسول کامل رسول، شفیع و مددگار، تمام سچائی کی راہ بتانے والا، روح حق و غیرہ ناموں سے صحف سابقہ میں معروف ہے۔یوحنا ( یحی علیہ السلام) نے جب اپنی رسالت کا اعلان بنی اسرائیل میں کیا تو ان لوگوں نے ان سے یہی سوال کیا: اگر تو نہ مسیح ہے نہ ایلیاہ (الیاس نبی ) نہ وہ نبی تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے۔“ (یوحنا باب ۱ آیت (۲۵) اعمال باب ۳ آیت ۲۰ تا ۲۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ پطرس مسیح علیہ السلام کے بعد اس موعود نبی کے منتظر تھے جس کا ذکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے الفاظ میں اوپر کیا جا چکا ہے بلکہ خود حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے بھی بایں الفاظ پیشگوئی فرمائی ہے: ” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر