صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 130 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 130

صحيح البخاری جلد ۶۵ کتاب التفسير الشعراء کھول کر بیان کرنے والی ہے اور یہ بات یقینا پہلوں کے نوشتوں میں موجود ہے۔یہ اشارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یسعیاہ نبی اور حضرت عیسی علیہ السلام وغیرہ انبیاء بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں کے متعلق ہے۔جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔(دیکھئے کتاب المناقب تشریح باب (۲۶) سورۃ الشعراء کا یہ موضوع کتنا عظیم الشان ہے اور اس سے ما قبل سورتوں کے تسلسل ہی میں اس کا سیاق کلام ہے۔اللَّيْكَةُ وَالْأَيْكَةُ: أَيْكَة کی جمع ہے اور اسم جمع ہے جو درختوں کی کثرت پر دلالت کرتا ہے یعنی گھنے جنگل جن میں قوم شعیب کی بودو باش تھی۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب احادیث الانبیاء باب ۳۴۔بَاب ۱ : وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ (الشعراء: ۸۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) مجھے اس دن رسوا نہ کیجیو جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں ٤٧٦٨ : وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ :۴۷۶۸ اور ابراہیم بن طہمان نے ابن ابی ذئب عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سے کہا۔انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي سے، سعید نے اپنے باپ سے، انہوں نے هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ ابوہریرہ نے نبی صلی الی یکم سے روایت کی۔(انہوں الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَرَى أَبَاهُ يَوْمَ نے کہا کہ آپ نے فرمایا: ابراہیم علیہ الصلوۃ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَةُ، وَالْغَبَرَةُ والسلام نے قیامت کے روز اپنے باپ کو دیکھا کہ وہ گرد آلود ہے اور سیاہی چھائی ہوئی ہے۔غَبَرَة هِيَ الْقَتَرَةُ۔أطرافه: ٣٣٥٠، ٤٧٦٩ - ہی قترة کو کہتے ہیں (جس کے معنی سیاہی ہیں۔) ٤٧٦٩: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنَا ۴۷۶۹: اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ بیان کیا کہ میرے بھائی (عبد الحمید) نے ہمیں أَخِي عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ عَنْهُ عن الله بتایا۔انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، سعید مقبری نے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابوہریرہ قَالَ يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ نے بی ای ایم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: