صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 4
صحيح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص طرح و تاب۔لفظ وَهَّاب صفات الہیہ میں سے ایک مشہور صفت ہے جس کے معنی ہیں بہت داد و دھش کرنے والا۔چنانچہ اس صفت وہابیت کا ذکر سورۃ مریم کے شروع ہی میں بالتکرار آیا ہے۔حضرت زکریا اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور کہتے ہیں: فَهَبُ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (مریم:۷،۶) سو مجھے اپنے فضل سے اپنے حضور سے ایک ایسا مددگار وارث عطا کر جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث ہو اور اے میرے رب اسے پسندیدہ وجود بنائیو۔اور حضرت مریم سے فرشتہ کہتا ہے میں تیرے رب کا فرستادہ ہوں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک بیٹا عطا کروں۔قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبَّكِ لاهَبَ لَكِ علما زكيان (مریم: ۲۰) اس نے کہا: میں تو صرف تیرے رب کا فرستادہ ہوں (جو اس پیغام کے ساتھ بھیجا گیا ہوں) تا تجھے ایک لڑکا عطا کروں جو پاکیزہ صفات ہو گا۔غرض ان آیات میں دونوں کے لیے صفت وہابیت ہی کا ذکر ہے۔اس لئے اس مخصوص سیاق کلام سے معین طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ ھا سے اسم وهاب زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ک، ها كَذَلِكَ الْوَهَّابِ به فقره بطور مبتدا ہے جو از روئے قواعد عربیہ خبر چاہتا ہے اور جملہ اسمیہ کی خبر اسم بھی ہو سکتی ہے اور فعل بھی۔اس لئے حرف یا کو يَبْعَثُ کا قائم مقام سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔کیونکہ ان آیات میں بعثت کی بشارت دی گئی ہے اور پورا جملہ اسمیہ یہ ہے: كَذَلِكَ الْوَهَّابِ يَبْعَثُ لَک۔اس طرح خدائے وَهَّاب تیرے لئے بھی مبعوث فرمائے گا۔ع اور ص کا بدل معلوم کرنا آسان ہے۔یہ قائم مقام ہے وَعْدُ الصِّدْقِ الَّذِي تُوْعَدُ کا یعنی یہ سچا وعدہ ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا ہے یا یہ بدل ہے وَغَدًا صَادِقًا کا مفہو نا دونوں جملے ایک ہی ہیں۔سورۃ مریم میں یقینا اسی عظیم الشان وعدے کا ذکر ہے جس کا تعلق مسیح موعود کی بعثت اور کسر صلیب کی پیشگوئی سے ہے اور احیاء امت محمد یہ اور تجدید دین اسلام کی ایسی بشارت کی نسبت فرماتا ہے: اِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَاتِیاں (مریم: ۶۲) کہ اس کا یہ وعدہ یقیناً پورا ہو کر رہے گا۔سورۃ مریم کی آخری آیات سے روز روشن کی طرح آشکار ہے کہ اس سورۃ کا تعلق ایک بہت بڑی بشارت سے ہے جو متقیوں کو دی گئی اور مسیحی اقوام کی ہلاکت سے ہے۔چنانچہ اس سورۃ میں فرماتا ہے : تَكَادُ السموتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَانِ أَنْ دَعَوُا لِلرَّحْمَن وَلَدًان (مریم: ۹۱، ۹۲) یعنی قریب ہے کہ آسمان اس بات پر پھٹ کر گر جائے اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر آگریں جو انہوں نے رحمن کا ایک بیٹا قرار دیا ہے۔بحالیکہ رحمن کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی بیٹا اختیار کرے۔مذکورہ بالا آیات سے بشارت و انذار سے متعلق وعدہ کسر صلیب کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ وعدہ حتمی اور اٹل ہے۔اس لئے سیاق کلام کے عین مناسب ہے کہ اگر ع ص کو وعدۂ صادق کا مخفف سمجھا جائے اور ہماری یہ تاویل حضرت ابن عباس وغیرہ کے قیاس کے منافی نہیں بلکہ اس کے مطابق ہے۔کیونکہ وَهَّاب اور صادِق صفاتِ الہیہ میں سے ایسی دو صفتیں ہیں جو اس کی صفات کرم، علم و حکمت اور اس کے بصیر ہونے کو شامل رکھتی ہیں۔امام بخاری نے ان حروف کو بلا شرح چھوڑ کر ہمارے لئے قیاس صحیح کی گنجائش رکھی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ