صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 129 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 129

۱۲۹ ۶۵ کتاب التفسير / الشعراء صحيح البخاری جلد سے مشتق سمجھا ہے۔سَحَر یعنی صبح کو ناشتہ کیا۔ابو عبیدہ کے نزدیک سحر سے نہیں بلکہ سحر سے اس کا اشتقاق ہے اور اس کے معنی ہیں كُلُّ مَنْ أَكَلَ فَهُوَ مُسَحْرَ : ہر کھانے پینے والا مسخر کہلا تا ہے۔فراء ادیب نے آیت متعلقہ سے یہی سمجھا ہے کہ کفار رسول اللہ صلی علیکم کو طعنہ دیتے تھے کہ تو نبی کیسے ہو سکتا ہے۔اِنَّكَ تَأْكُلُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ تو کھانا کھاتا ہے اور پیتا ہے۔وَتَسَحْرُ بِہ کے معنی ہیں تم کھاتے پیتے ہو۔تَسَخَّرُ اصل میں تَتَسَخَّرُ ہے یعنی تم ہماری طرح کھانے پینے والے انسان ہو۔لَا تَفْضُلُنَا فِي شَيْئ کسی بات میں بھی ہم سے افضل نہیں ہو۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۳۱) یہ لفظ سورۃ الشعراء میں دو دفعہ آیا ہے۔ایک جگہ اس کا مفہوم کھاؤ پیو اور دوسری جگہ جاد وشدہ ہے اور دونوں جگہ میں سیاق کلام کے مطابق جواب دیا گیا ہے۔پہلی جگہ فرماتا ہے: قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَخَرِينَ ، مَا اَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا فَأْتِ بِأيَةٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصُّدِقِينَ (الشعراء: ۱۵۴، ۱۵۵) قوم ثمود نے صالح نبی سے کہا کہ تم صرف کھانے پینے والوں میں سے ہو۔ہماری طرح کے ایک بشر کے سوا تم اور کچھ نہیں۔اگر تم صادق ہو تو کوئی نشان لاؤ۔اس کے بعد اس نشان کا ذکر کیا گیا ہے جو انہیں دکھایا گیا اور وہ عذاب عظیم کی شکل میں ظاہر ہوا۔دوسری جگہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ان سے کہتی ہے: قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَخَرِينَ وَمَا انتَ إِلا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَ إِنْ تَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَذِبِينَ ، فَأَسْقِطَ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصُّدِقِينَ (الشعراء: ۱۸۶ تا ۱۸۸) انہوں نے کہا: تم تو صرف ایسے لوگوں میں سے ہو جو جادو کے اثر کے ماتحت ہیں اور تم صرف ہماری طرح ہی ایک بشر ہو اور ہم یقینا تمہیں جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں۔اگر تم سچے ہو تو ہم پر کوئی بادل کا ٹکڑ اگر اؤ۔چنانچہ ان کی بھی منہ مانگی خواہش پوری ہوئی۔کفار مکہ نے آنحضرت صلی الم سے دونوں ہی باتیں کیں اور سورۃ الشعراء میں آیت وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ) (الشعراء: ۱۰، ۶۹، ۱۴۱،۱۲۳،۱۰۵، ۱۷۶،۱۶۰، ۱۹۲) بار بار دہرائی گئی ہے یعنی یقینا تیرا رب ہی عزیز یعنی اپنی صفات میں غالب اور رحیم یعنی بار بار تیری محنت کا بدلہ رحمت سے دینے والا ہے۔اس تکرار سے ظاہر ہے آپ کی بعثت کی غرض ہر زمانے میں پہلے سے بڑھ چڑھ کر پوری ہونے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت غالب ہو کر رہے گی خواہ کتنی ہی آپ کی مخالفت کی جائے۔اس سلوک ایزدی سے واضح ہے ہے کہ آپ پر جو الزامات عائد کئے جاتے ہیں وہ بیچ ثابت ہوں گے۔کھاؤ پیو لوگوں اور جادو گروں کی کارستانی ان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس سلوک کا وعدہ کیا گیا ہے وہ اس کے خلاف ہے اور سورۃ الشعراء میں بتایا گیا ہے کہ آپ کی بعثت کی غرض و غایت صفت عزیزیت و رحیمیت کے تحت مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ روشن سے روشن تر ہوتی جائے گی یہاں تک کہ آخر وہ زمانہ آجائے گا جس میں سارے جہان کی قوموں کو علم ہوگا وَ اِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَلَمِينَ ، نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ بِلِسَانٍ عَرَبيّ مُّبِينٍ وَ إِنَّهُ لَفِى زُبُرِ الْأَوَّلِينَ (الشعراء : ۱۹۳ تا ۱۹۷) اور یقیناً یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔اس امانت کو روح امین (جبریل) لے کر تیرے دل پر نازل ہوا ہے تاکہ تو ہوشیار کرنے والی جماعت میں ہو۔اس امانت دار فرشتے نے اسے ایسی زبان میں نازل کیا ہے جو عربی ہے،