صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 128
صحیح البخاری جلد ۱۲۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الشعراء خُلِقَ وَمِنْهُ جُبُلًا وَجِبِلًا وَجُبْلًا يَعْنِي گيا۔ اور اس سے جُبُلًا، جِبِلا اور جبلا ہے یعنی الْخَلْقَ ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ۔ خلقت حضرت ابن عباس نے اس کو بیان کیا ہے۔ تشریح: وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَعْبَثُونَ یعنی عمارتیں بناتے ہو۔ لفظ تعبثون کے یہ معنی فریائی نے ان سے نقل کئے ہیں اور آیت متعلقہ کے سیاق کی رو سے بھی یہی معنی ظاہر ہوتے ہیں۔ فرماتا ہے : البُنُونَ بِكُلِّ رِيعَ آيَةً تَعْبَثُونَ ، وَ تَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (الشعراء: ۱۲۹، ۱۳۰) کیا تم شاہراہ میں واقع ہر ٹیلے پر بڑے بڑے بلند و بالا برج بناتے ہو جو ایک عبث کام ہے اور بڑے بڑے قلعہ نما محل بناتے ہو تا کہ تم ہمیشہ قائم رہو۔ بظاہر یہ برج راستوں کی سمت متعین کرنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ یہی کام ستاروں کی نقل و حرکت سے بآسانی معلوم ہو سکتا تھا جیسا کہ سورہ نحل آیت نمبر ۱۷ میں بیان فرمایا ہے: وَ بِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ کہ وہ ستارے کے ذریعہ سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے لفظ تعبثون میں عبث کا یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ عَبثَ بِالنُّفُوسِ وَالْأَمْوَالِ یعنی جانوں کو ہلاک کیا اور اموال لوٹے۔ ان معنوں کی رو سے انہیں تو پینچ کی گئی ہے کہ جو برج نما بلند عمارتیں بنائی گئی تھیں اور ان کی غرض بطور حفاظتی چوکیاں اور راستوں کی تعیین تھی، بجائے اس کے وہ ڈاکوؤں کی کمین گاہیں بن گئی ہیں۔ لفظ تَعْبَثُونَ سے انہیں تو پیچ کی گئی ہے اور اس سیاق میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ فَاتَّقُوا اللهَ وَ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَطِيعُونِ (الشعراء: ۱۳۱، ۱۳۲) اور جب تم (کسی کو) پکڑتے ہو تو تم ظالموں کی طرح پکڑتے ہو۔ پس اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔ هَضِيم سے مراد ہے جھڑنے والے یعنی چھونے سے ہی کھجوروں کا پھل ٹوٹ جائے۔ یہ معنی بھی مجاہد سے ہی بحوالہ فریابی مروی ہیں۔ - اَنْتُرَكُونَ فِي مَا هُهُنَا آمِنِينَ فِي جَنَّتٍ وَعُيُونٍ وَ زُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَرِهِينَ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَطِيعُونِ ، وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ (الشعراء: ۱۴۷ تا ۱۵۳) کیا تم اس دنیا میں امن سے چھوڑے جاؤ گے ؟ باغات اور ( بہتے چشموں اور لہلہاتی کھیتیوں اور نخلستانوں میں جن کے پھل بوجھ کی وجہ سے ٹوٹے جارہے ہیں اور پہاڑوں میں تم کھود کر گھر بناتے ہو جن پر تم اتراتے اور خوش و خرم ہو۔ اللہ کی گرفت سے بچو۔ اس کا تقویٰ اور میری اطاعت اختیار کرو۔ ان لوگوں کے مسلک کی اطاعت نہ کرو جو حد سے بڑھنے والے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ مذکورہ بالا مفردات کی شرح اور آیات کے حوالے سے سورۃ الشعراء کا مضمون متعین کیا گیا ہے۔ لفظ هَضِیم کے ا کے معنی عکرمہ نے الرُّطَبُ اللَّيْنُ کئے ہیں یعنی تر و تازہ اور نرم پھل۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۳۱) مُسَخَّرِینَ کے معنی ہیں جادو کئے گئے۔ اس لفظ کے تلفظ اور معنوں میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض نے سَحَر