صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 127
صحیح البخاری جلد ۱۲۷ ٢٦ - سُوْرَةُ الشُّعَرَاء ۶۵ - کتاب التفسير الشعراء وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَعْبَثُونَ (الشعراء: ۱۲۹) اور مجاہد نے کہا: تَعْبَثُونَ کے معنی ہیں عمار عمارتیں تَبْنُوْنَ۔ هَضِيمُ (الشعراء: ١٤٩) بناتے ہو۔ هَضِيمُ یعنی چھونے سے ہی يَتَفَكَّتُ إِذَا مُس۔ مُسَخَّرِينَ کھجوروں کا) پھل ٹوٹ جائے۔ مُسَخَّرِینَ یعنی مَسْحُوْرِيْنَ اللَّيْكَةُ وَالْأَيْكَةُ جَمْعُ جادو کئے گئے۔ اللَّيْكَةُ اور الْأَيْكَةُ، أَيْكَة کی جمع أَيْكَةٍ وَهِيَ جَمْعُ الشَّجَرِ۔ يَوْمِ الظُّلَّةِ ہے اور درختوں کی کثرت پر دلالت کرتا ہے (الشعراء: ١٩٠) إِظْلَالُ الْعَذَابِ (یعنی گھنے جنگل) يَوْمِ الظُّلَّةِ سے مراد عذاب کا إِيَّاهُمْ۔ مَوْزُونَ (الحجر: (۲۰) مَعْلُومٍ۔ سایہ کرنا ہے۔ موزون کے معنی ہیں معین۔ كَالطَّودِ (الشعراء: ٦٤) كَالْجَبَلِ۔ كَالطَّوْدِ یعنی پہاڑ کی مانند۔ (مجاہد کے سوا) اوروں وَقَالَ غَيْرُهُ لَشِرْدِمَةٌ (الشعراء: ٥٥) نے کہا: لَشِرْدِمَةٌ یعنی چھوٹی جماعت في الشَّرْدِمَةُ طَائِفَةٌ قَلِيْلَةٌ فِي السُّجِدِينَ السُّجِدِين سے مراد ہے نماز پڑھنے والوں (الشعراء: ۲۲۰) الْمُصَلِّيْنَ۔ قَالَ ابْنُ میں۔ حضرت ابن عباس نے کہا: لَعَلَّكُم عَبَّاسٍ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ (الشعراء: ۱۳۰) تَخْلُدُونَ کے معنی ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے كَأَنَّكُمْ ۔ الرِّيعُ: الْأَيْفَاعُ مِنَ الْأَرْضِ کہ تم ہمیشہ رہو گے۔ الربع زمین سے بلند (یعنی وَجَمْعُهُ رِيَعَةً وَأَرْيَاعٌ وَاحِدُهُ الرَّيَعَةُ۔ ٹيلى - الرَّبَعَةُ واحد ہے اور اس کی جمع رِيعَة اور مصانع (الشعراء: (۱۳۰) كُلُّ بِنَاءٍ أَرْبَاعٌ ہے۔ مَصَانِعَ : ہر عمارت مَصْنَعَةٌ کہلاتی فَهُوَ مَصْنَعَةٌ۔ فَرِهِيْنَ مَرِحِيْنَ، فَرِهِينَ ہے۔ فَرِهِينَ کے معنی ہیں اترانے والے۔ بِمَعْنَاهُ، وَيُقَالُ فَرِهِينَ (الشعراء: ١٥٠) فَرِهِينَ بھی اسی معنی میں ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ حَاذِقِينَ۔ تَعْثَوْا (الشعراء: ١٨٤) هُوَ فَرِهِينَ سے مراد ہیں تجربہ کار۔ تعنوا سے مراد أَشَدُّ الْفَسَادِ وَعَاثَ يَعِيْثُ عَيْنًا ہے سخت فساد پھیلانا اور یہ عَاثَ يَعِيْثُ عَيْنًا الجبلة (الشعراء: ١٨٥) الْخَلْقُ جُبِلَ سے ہے۔ الْجِبلة یعنی مخلوق۔ جبل یعنی پیدا کیا