صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 126
صحیح البخاری جلد ۱۲۶ ۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان عالمگیر عذاب ظاہر نہیں ہوا اور ولد اللہ پکارنے والی قوموں سے تباہ کن مؤاخذہ نہیں ہوا۔ جن سے مواخذہ ہوا ہے وہ ایک محدود قطعہ میں بسنے والی رومانی قوم تھی جس کے بارے میں الگ سورۃ میں پیشگوئی کا ذکر ہے۔ سورہ دخان میں جس بَطْشَةُ الْكُبْرَی اور ہلاکت خیز تباہی کا ذکر ہے وہ یقیناً ایک ایسی تباہی ہے جو بہت ہی بڑے وسیع پیمانے پر ظاہر ہونے والی ہے اور ابھی تک وہ ظہور پذیر نہیں ہوئی۔ لیکن اب ہم اس کے دروازے پر ہیں جیسا کہ اس زمانے کے نذیر نے کھول کھول کر ڈنکے کی چوٹ سے مختلف پیرائیوں میں اسے بیان کیا اور سارے جہان کی اقوام کو اس سے ڈرایا ہے۔ وہ عذاب عالمگیر ہے۔ کسی ایک قطعہ زمین سے محدود نہیں، نہ ایک قوم سے مخصوص۔ اس کے عالمگیر ظہور سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ نوشتہ پورا ہو گا لیکونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرًا (الفرقان : (٢) ☆☆☆