صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 125
صحيح البخاری جلد ۱۲۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان وَالْقَمَرُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالعِزَامُ کہا: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ) کہتے تھے: پانچ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا ( الفرقان: ۷۸) نشانیاں تو گزر چکی ہیں: دھواں، چاند کا پھٹنا، رومیوں کا مغلوب ہونا، سخت گرفت اور ہلاکت۔یعنی آیت فَسَوفَ يَكُونُ لِزَامًا ( میں جو ہلاکت کی پیشگوئی ہے۔) أطرافه : ۱۰۰۷، ۱۰۲۰، ٤٦۹۳، ٤٧٧٤ ، ٤۸۰۹ ، ٤٨٢٠ ، ٤٨٢١ ، ٤٨٢٢ ، ٤٨٢٣، ٤٨٢٤، ٤٨٢٥ - شریح : فَسَوْفَ يَكُونُ لِرَاماً : ان مہتم بالشان پیشگوئیوں کی تشریح اپنے موقع اور محل پر ہوگی۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا قول کہ یہ پانچوں علامتیں گزر چکی ہیں ان کا اپنا قیاس ہے۔انہوں نے کھول کر نہیں بتایا کہ وہ کس شکل و صورت میں ظہور پذیر ہوئیں اور امام ابن حجر نے یا کسی اور شارح نے کوئی تسلی بخش شرح بیان نہیں کی۔جس ہلاکت خیز ائل گھڑی کا سورۂ فرقان میں ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق ان قوموں سے ہے جو مشرک ہیں اور ابن اللہ کے عقیدہ کے ماننے والے ہیں۔جن کا حدیث میں دجال اعور کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔سورۂ فرقان کو الفرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ الْفَارِقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان کھلا کھلا فرق بیان کرنے والی سورۃ ہے اور اس سورۃ کے آغاز میں تنزیل فرقان کی غرض یہ بتائی گئی ہے کہ آنحضرت صلی یی کم سارے جہان کی قوموں کے لئے نذیر ہیں اور آپ کی بعثت کی غرض و غایت شرک کا ابطال اور عقیدہ ولد اللہ کی نفی میں بین دلائل کا اظہار ہے جو دیگر الفاظ کسر صلیب کی پیشگوئی سے تعلق رکھتا ہے۔اس تعلق میں لزاما کی پیشگوئی بھی ہے۔جس کے معنی اٹل اور ہلاکت کے ہیں جیسا کہ مفردات کی شرح میں گزر چکا ہے اور وہ معنی بھی درست ہیں جو ابو عبیدہ نے کئے ہیں یعنی ہر عمل کی جزا اس کے عمل کے مطابق ہو گی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۳۰) باب کے تحت مندرجہ روایت میں عذاب الہی کی جن علامتوں کا ذکر ہے۔ان میں سے بعض کا تعلق بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے عہد مبارک سے ہے۔مثلاً شق القمر اور رومیوں کی مغلوبیت کے واقعات جن کا ذکر الگ الگ سورتوں میں ہوا ہے اور باقی کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عہد بعید سے ہے جن میں دجالی اقوام نے اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لئے حملہ آور ہونا تھا اور نزول مسیح موعود کی پیشگوئی کا ظہور مقدر ہے اور اس کی بعثت بھی درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ہی ایک تسلسل ہے۔ان مہتم بالشان متعلقہ علامات کی تشریح اپنے اپنے موقع پر ہوگی۔شق القمر کی پیشگوئی کے تعلق میں دیکھئے کتاب المناقب باب ۲۷۔اس تعلق میں یہ ذکر کرنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ذہن میں مذکورہ بالا پانچوں علامات کے ظہور کی نسبت کوئی نہ کوئی تصور ضرور ہو گا اور وہ تصور ایک محدود شکل ہے کیونکہ ان کے زمانے میں