صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 124
صحیح البخاری جلد ۱۲۴ -۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان (النساء : ٩٤) فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ سے ان دو آیتوں کی بابت پوچھوں۔ یعنی (ایک يَنْسَخْهَا شَيْءٌ، وَعَنْ وَالَّذِينَ لَا یہ آیت) وَ مَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ل اور يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلهَا آخَرَ (الفرقان: ٦٩) میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس آیت قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشَّرْكِ۔ کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ (دونوں آیتیں اپنی اپنی جگہ پر برقرار ہیں۔) دوسری آیت یہ ہے: وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلهَا اخر کے انہوں نے کہا کہ یہ آیت مشرکوں کی نسبت نازل ہوئی تھی۔ أطرافه : ٣٨٥٥ ، ٤٥٩٠ ، ٤٧٦٢ ، ٤٧٦٣ ، ٤٧٦٤ ، ٤٧٦٥ - تشريح : إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا: : حضرت ابن عبا عباس کے قول سے ظاہر ہے کہ محولہ بالا آیات میں سے کسی نے دوسری کو منسوخ نہیں کیا۔ زمانہ جاہلیت میں کفار کے بارے میں اور قانون ہے اور ان کے لئے اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ کھلا ہے۔ لیکن جب کوئی اسلام میں داخل ہو جائے تو وہ اسلام کی شریعت کے تاب ریعت کے تابع ہے اور اس کے مطابق جواب دہ ہو گا اور اسلامی احکام نافذ - ادہ ہو گا اور اسلامی احکام نافذ کئے جائیں گے۔ موجودہ زمانے میں جو حالت ہے وہ زمانہ جاہلیت کی حالت سے بدتر ہے اور اسلام نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ جیسا کہ سابقہ باب میں بھی واضح کیا جا چکا ہے۔ هَلَكَةً۔ بَاب ٥ : فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا (الفرقان: ۷۸) عنقریب یہ ہلاکت کا موجب ہو گا لِزَاما کے معنی ہیں) ہلاکت۔ ٤٧٦٧ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۴۷۶۷: عمر بن حفص بن غیاث نے ہمیں بتایا۔ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ عَنْ مَّسْرُوقٍ قَالَ قَالَ ہمیں بتایا۔ مسلم (بن صبیح) نے ہمیں بتایا۔ عَبْدُ اللَّهِ خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ انہوں نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں نے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے۔“ وو