صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 3
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / كهيعص - طبری نے علی بن ابی طلحہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ کھیعص بطور قسم کے ہیں جس سے اللہ نے اس سورۃ کا آغاز کیا ہے اور اس قسم سے یہ بتایا گیا ہے کہ سورۃ مریم میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں وہ ضرور پوری ہو کر رہیں گی اور یہ بھی ذکر کیا ہے کہ کھیعص اسم الہی ہے لیکن ہمیں کھول کر نہیں بتایا گیا کہ اگر یہ ایک اسم ہے تو اس کے کیا معنی؟ عبد الرزاق نے بسند معمر قتادہ سے یہ بات نقل کی ہے کہ کھیعص اسمائے قرآن میں سے ہے۔فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۴۲) (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۵۰) مذکورہ بالا دونوں روایتوں میں سے پہلی روایت زیادہ مستند اور معقول ہے کہ یہ حروف اسمائے الہیہ کے لیے بطور مقطعات کے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں کوئی مستند مرفوع روایت مروی نہیں اور امام بخاری نے ان روایتوں کو نظر انداز کیا ہے ورنہ وہ ضرور اس بارے میں حضرت ابن عباس کا قول نقل کرتے جیسا کہ اس سورۃ کے آغاز میں ان کا ایک اور قول نقل کیا ہے جس کا ذکر ابھی آئے گا۔اگر سورۃ الکہف اور سورۃ مریم کا مضمون مد نظر رکھا جائے تو ہمیں دونوں سورتوں کے معنوی تقابل سے حروف کھیعص کے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔سورۃ الکہف کا مضمون انداری ہے جس کا تعلق عیسائیت، اس کے فتنے اور تباہی سے ہے اور سورۃ مریم کا مضمون تبشیری ہے جیسا کہ فرمایا: ذكرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَها زكريا (مریم:۳) یہ تیرے رب کی اس رحمت کا ذکر ہے جو مایوس کن حالت پیر فرتوتی اور بانجھ پن میں ) زکریا پر ہوئی۔یعنی انہیں یحی جیسا بیٹا آخری عمر میں عطا ہوا اور حضرت مریم علیہا السلام کو خارق عادت طور پر بغیر مس بشر کے حضرت عیسی علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا گیا۔ان دونوں نے بنی اسرائیل میں احیاء و تجدید کا کام کیا۔یہ ذکر بطور قصہ کہانی نہیں بلکہ غیب کی خبر ہے جو بطور پیشگوئی آنحضرت صلی علی کلم پر نازل ہوئی ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تملى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًاه قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِى يَعْلَمُ السّرَ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان: ۶، ۷) اور کافروں نے کہا یہ پہلوں کے قصے ہیں جو اس نے لکھوائے ہیں اور وہ صبح و شام اس کے سامنے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔تو اُن سے کہہ دے کہ یہ اس ذات نے اُتارا جو زمین و آسمان کے رازوں کو جانتا ہے۔یقیناً وہ غفور و رحیم ہے۔(یعنی قصوروں پر بہت پردہ پوشی کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔) قرآن مجید کے اس واضح بیان کے پیش نظر آیت ذکرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَة زكريا (مریم:۳) سے آنحضرت صلی الظلم کو سورۃ مریم میں بشارت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ بھی ویسے ہی سلوک فرمائے گا جیسا کہ حضرت ذکریا اور حضرت مریم علیہما السلام کے ساتھ فرمایا۔یعنی تجدید دین اور احیاء ملت اسلامیہ کے لیے عند الضرورت ان جیسے لوگ مبعوث کرے گا اور احادیث میں فتنہ دجال اور کسر صلیب کی پیشگوئی اتنی مشہور ہے کہ مجھے اس کی تفاصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔کتاب احادیث الانبیاء میں اس کا ذکر کسی قدر گزر چکا ہے۔یہاں جس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر سورۃ الکہف اور سورۃ مریم کے مضمون انذار و تبشیر کو مد نظر رکھا جائے تو حروف مقطعات کھیعص کے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں۔حرف کاف سے مراد گڈ لک ہے جو حروف مقطعات قرآنیہ میں پہلے شامل نہیں ہے۔ھا سے اللہ تعالیٰ کی صفت وَهَّاب مراد ہے اور ک، ھا اس جملے کا قائم مقام ہے كَذَلِكَ الْوَهَّابِ یعنی اسی ها