صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 116 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 116

صحيح البخاری جلد II ۶۵ کتاب التفسير / الفرقان عالمگیر اندار کا تعلق بھی نہایت ہی سخت سزا سے ہے۔جس کا ذکر سورۂ فرقان میں کیا گیا ہے۔کاش کوئی سمجھنے والا ہو۔موجودہ زمانہ کے نذیر نے بھی عالمگیر اندار کا اعلان ٹھونک بجا کر کیا ہے۔وقت ہے توبہ کرو جلدی مگر کچھ رحم ہو سُست کیوں بیٹھے ہو جیسے کوئی پی کر کوکنار تم نہیں لوہے کے کیوں ڈرتے نہیں اس وقت سے جس سے پڑ جائے گی اک دم میں پہاڑوں میں بغار وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار ایک دم میں غم کدے ہو جائیں گے عشرت کدے شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہو کر سو گوار وہ جو تھے اونچے محل اور وہ جو تھے قصر بریں پست ہو جائیں گے جیسے پست ہو اک جائے غار ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں ان کا شمار یاد کر فرقاں سے لفظ زُلْزِلَتْ زِلْزَالَهَا ایک دن ہو گا وہی جو غیب سے پایا قرار سخت ماتم کے وہ دن ہوں گے مصیبت کی گھڑی لیک وہ دن ہوں گے نیکوں کے لئے شیریں تمار آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار در ثمین اردو، پیشگوئی جنگ عظیم صفحه ۱۸۹،۱۸۸) یہ چند اشعار انذار عظیم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم سے نقل کئے گئے ہیں۔جس میں آپ نے قیامت نما ساعت کا نقشہ کھینچا ہے اور نثر میں بھی اس کی ہولناکی کی نسبت آگاہ کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ وحی الہی میں جو آپ پر نازل ہوئی لفظ زلزلہ ہے لیکن اس سے مراد نہایت ہی ہیبت ناک تباہی ہے جو مختلف شکلوں میں ظاہر ہو گی۔نیز نظم میں فرماتے ہیں: اب تو نرمی کے گئے دن اب خدائے خشمگیں کام وہ دکھلائے گا جیسے ہتھوڑے سے لوہار تم سے غائب ہے مگر میں دیکھتا ہوں ہر گھڑی پھرتا ہے آنکھوں کے آگے وہ زماں وہ روز گار گر کرو تو بہ تو اب بھی خیر ہے کچھ غم نہیں تم تو خود بنتے ہو قہر ذوالمن کے خواستگار در ثمین اردو، پیشگوئی جنگ عظیم صفحه ۱۹۰) انبیاء کے انذارات سے در حقیقت مقصود اصلاح ہے نہ کہ سزا۔لفظ لوہار کے تحت حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ بظاہر وہ زلزلہ ہے اور ظاہر الفاظ یہی بتاتے ہیں کہ وہ زلزلہ ہی ہو گا۔ورنہ کوئی اور جانگداز اور فوق العادت عذاب ہے جو زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔" در همین اردو، پیشگوئی جنگ عظیم صفحه ۱۹۰)