صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 115
صحیح البخاری جلد ۱۱۵ ۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان اس کو کچھ نہیں سمجھا۔ فرماتا ہے: قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا (الفرقان: ۷۸) کہہ میرا رب تمہاری کیا پر واہ کرتا ہے اگر تمہاری دعا نہ ہو۔ تم جھٹلا ہی چکے ہو عنقریب سزا اٹل ہو گی۔ اس سے پہلے مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں: وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا إِنَّهَا سَاءَتْ : وَاتٌ مُسْتَقَرًّا وَ مُقَامًا ( الفرقان: ۶۶، ۶۷) اور وه ر وہ (رحمن کے بندے) کہتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب ٹلا دے۔ اس کا عذاب ایک بہت بڑی تباہی ہے۔ وہ (دوزخ) عارضی ٹھکانے کے طور پر بھی بڑی ہے اور مستقل ٹھکانے کے طور پر بھی ( بُری ہے۔) غراما کے معنی ہیں ایسی ہلاکت جو اٹل ہو اور پیچھا نہ چھوڑے۔ غراما کے یہ معنی ابو عبیدہ سے منقول ہیں۔ اسی سے ہے : رَجُلٌ مُعْرَم بالحب یعنی ایسا شخص جو گردیدہ محبت ہو۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۲۴) وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَ عَتَوا : طَغَوا یعنی حد سے گزر گئے۔ فرماتا ہے: وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْ لَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلكَةُ أَوْ اَوْ نَرَى رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ وَعَوعُتُوا كَبِيرًا ( الـ كَبِيرًا ( الفرقان: (۲۲) اور ان لوگوں نے جو ہماری ملاقات قات کی امید نہیں رکھتے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے یا ہم اپنے رب کو آنکھوں سے کیوں نہیں دیکھتے۔ یقینا انہوں نے اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا ہے اور سرکشی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ ایمان باللہ اور حیات آخرت کا انکار ہی انسان کو ہر قسم کے محاسبے سے بیباک کر دیتا ہے اور نڈر ہو کر وہ ہر قسم کے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور بنی نوع انسان کے کمزور طبقے پر ظلم توڑنے لگتا ہے اور اس دنیا میں ملائکۃ اللہ کا تصرف ایسے انسان کے تباہ کرنے کے لئے بروئے کار آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وجود کا ثبوت دیتا ہے۔ ہمیشہ سے یہی سنت اللہ جاری ہے کہ جب بھی کوئی قوم اپنے رب منعم کا کفران کرتی اور حدود سے گزرتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بروئے کار آتی اور ظالم قوم کو پکڑ لیتی ہے۔ یہ سیاق کلام ہے مذکورہ بالا آیت اور مابعد کی آیت کا۔ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَاتِيَة: ابن عیینہ کے قول کا حوالہ ضمناً دیا گیا ہے اور اس سے مراد سورۃ الحاقہ کی آیات ہیں : كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَ عَادًا ثَمُودُ وَ عَادَ بِالْقَارِعَةِ فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ وَ ة وَ أَمَّا عَادَ فَاهْلِكُوا بِرِيحِ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَ ثَنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعى (الحاقة: ۵ تا ۸) نمود اور عاد نے قارعہ کو جھٹلایا چنانچہ نمود تو اس کھلے انذار کے مطابق) ایک ایسے عذاب سے ہلاک کئے گئے جو اپنی شدت میں انتہاء کو پہنچا ہوا تھا اور عاد بھی ایک ایسی باد تند کے ذریعے سے ہلاک کئے گئے جو نہایت ہی سخت تھی۔ اس (اللہ ) نے ہوا کو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن ان کی تباہی کے لیے مقرر کر چھوڑا تھا، سو اس کا نتیجہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ قوم بالکل گر گئی۔ قَارِعَة کے معنی ایسی خبر جو ٹھونک بجا کر بڑے اعلان کے ساتھ دی جائے۔ یہ آیات سورۃ الحاقہ کی ہیں۔ الحاقہ کے معنی بھی ایسی سزا جو بیچ بیچ واقع ہونے والی ہو ۔ لفظ طاغية اور عتوا سے ان آیات میں قوموں کی انتہائی سرکشی کے بالمقابل سزائے الہی کی انتہائی سختی کا ذکر کیا گیا ہے کہ متکبر اور سرکش انسان اس کے سامنے بالکل بے بس ہو گیا۔ ان قوموں کی تباہی کے ذکر سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ دجالی اقوام کے زمانے میں